ایران جنگ امریکا کو 38 ارب ڈالر پڑگئی،ہر ماہ مزید 3 ارب ڈالر خرچ ہونے کا امکان

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایران کے خلاف جاری امریکی جنگ کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران امریکا کو تقریباً 38 ارب ڈالر کے اخراجات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ جنگ جاری رہنے کی صورت میں ہر ماہ مزید 2 سے 3 ارب ڈالر خرچ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

امریکی کانگریس کے غیر جانب دار بجٹ ادارے کانگریشنل بجٹ آفس (سی بی او) کی تازہ رپورٹ کے مطابق یکم اگست 2026 تک ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں سے امریکی محکمہ دفاع پر تقریباً 38 ارب ڈالر کا براہ راست مالی بوجھ پڑچکا تھا۔ یہ تخمینہ جنگی کارروائیوں، استعمال ہونے والے ہتھیاروں، گولہ بارود، فوجی سازوسامان، اضافی پروازوں اور ایندھن سمیت مختلف اخراجات پر مشتمل ہے۔

ہر ماہ مزید اربوں خرچ

سی بی او کے مطابق جنگ کی شدت برقرار رہنے کی صورت میں امریکی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہوگا۔ اگر لڑائی نسبتاً محدود سطح پر جاری رہتی ہے تو ماہانہ لاگت تقریباً 2 ارب ڈالر ہوسکتی ہے، جبکہ جنگی کارروائیوں میں شدت آنے کی صورت میں یہ رقم 3 ارب ڈالر ماہانہ تک پہنچ سکتی ہے۔

اس طرح جنگ مزید کئی ماہ جاری رہنے کی صورت میں امریکی خزانے پر اضافی بوجھ دسیوں ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مستقبل کے اخراجات کا انحصار جنگ کی شدت، فوجی کارروائیوں کے حجم اور ہتھیاروں کے استعمال کی رفتار پر ہوگا۔

ہتھیاروں کا ذخیرہ متاثر

رپورٹ میں امریکی فوج کے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخائر پر پڑنے والے دباؤ کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ سی بی او کے مطابق جنگ کے اخراجات کا بڑا حصہ استعمال کیے گئے میزائلوں اور دیگر جنگی سازوسامان کو دوبارہ خریدنے اور ذخائر بحال کرنے پر خرچ ہورہا ہے۔

امریکی فوج کی جانب سے جنگ کے دوران بڑی تعداد میں میزائل اور دیگر ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں بعض اہم جنگی ذخائر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ سی بی او کے مطابق استعمال شدہ بعض ذخائر کو دوبارہ مطلوبہ سطح تک پہنچانے میں تقریباً پانچ سال لگ سکتے ہیں۔

دفاعی صلاحیت پر سوالات

ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی نے امریکی دفاعی تیاریوں سے متعلق بھی بحث کو جنم دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طویل عرصے تک جاری رہنے والی جنگ کی صورت میں امریکا کو نہ صرف موجودہ کارروائیوں کے اخراجات برداشت کرنا ہوں گے بلکہ اپنے فوجی ذخائر دوبارہ بھرنے کے لیے بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ خرچ کرنا پڑے گا۔

رپورٹ کے مطابق طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست نشانے والے میزائلوں کے استعمال نے بھی امریکی ذخائر پر دباؤ بڑھایا ہے۔ اس صورتحال نے مستقبل میں کسی دوسرے ممکنہ فوجی تنازع کی صورت میں امریکی فوج کی فوری کارروائی کی صلاحیت سے متعلق سوالات پیدا کیے ہیں۔

پینٹاگون کے اعداد و شمار

سی بی او کا تخمینہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی جانب سے 21 جولائی کو سینیٹ کی سماعت میں بتائے گئے 37.5 ارب ڈالر کے اخراجات کے بھی قریب ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ کے اخراجات میں سب سے نمایاں حصہ گولہ بارود اور میزائلوں کے استعمال و دوبارہ حصول، فوجی سازوسامان کے نقصانات، اضافی پروازوں اور ایندھن پر آنے والی لاگت کا ہے۔ تاہم سی بی او نے یہ بھی واضح کیا کہ محکمہ دفاع نے معلومات کے حصول کی درخواستوں پر مکمل تعاون نہیں کیا، جس کے باعث تخمینے میں کچھ غیر یقینی موجود ہے۔

مہنگائی میں اضافے کا خدشہ

ایران جنگ کے اثرات صرف امریکی دفاعی بجٹ تک محدود نہیں بلکہ امریکی معیشت پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔ سی بی او کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث 2027 کی پہلی سہ ماہی کے دوران امریکا میں مہنگائی کی شرح جنگ سے پہلے کے اندازوں کے مقابلے میں تقریباً 0.5 فیصد پوائنٹ زیادہ ہوسکتی ہے۔

ایران امریکہ جنگ بندی معاہدے کے قریب پہنچ گئے،امریکی میڈیا نے بڑا دعوی کر دیا

توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ خطے میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل و دیگر توانائی مصنوعات کی ترسیل میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں بھی ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے اہم بحری راستہ ہے، اس لیے یہاں کشیدگی کا اثر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

مزید اخراجات شامل نہیں

سی بی او کے 38 ارب ڈالر کے تخمینے میں بعض حالیہ اخراجات شامل نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے بعض نقصانات، مستقبل میں ان کی مرمت اور تعمیر نو کے اخراجات اس رقم سے الگ ہوسکتے ہیں۔

اسی طرح جنگی کارروائیوں کے لیے اگر امریکا کو اضافی قرض لینا پڑا تو اس قرض پر ادا کیا جانے والا سود بھی موجودہ تخمینے میں شامل نہیں۔ اس لیے مجموعی مالی لاگت مستقبل میں موجودہ 38 ارب ڈالر سے نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے۔

عالمی معیشت پر اثرات

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ نے دفاعی اخراجات کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی اور تجارتی راستوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں اور عالمی سپلائی کے بارے میں خدشات بڑھے ہیں، جس کا اثر مختلف ممالک کی معیشتوں پر پڑ سکتا ہے۔

یوں ایران جنگ امریکا کے لیے صرف ایک فوجی تنازع نہیں رہی بلکہ اس کے مالی، دفاعی اور معاشی اثرات بھی نمایاں ہورہے ہیں۔ سی بی او کے مطابق جنگ جاری رہنے کی صورت میں واشنگٹن کو ہر ماہ مزید اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑسکتے ہیں، جبکہ ہتھیاروں کے ذخائر کی بحالی میں بھی کئی سال لگنے کا امکان ہے۔

ہمیں فالو کریں