اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد ملک میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیں نئی بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 10 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 41 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 16 ستمبر 2026 سے ہوگا اور موجودہ نظام کے تحت یہ قیمتیں صرف ایک دن کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔ سرکاری ریڈیو پاکستان نے بھی پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کی تصدیق کی ہے۔
پٹرول 384 روپے سے زائد
قیمت میں 4 روپے 10 پیسے اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 384 روپے 34 پیسے فی لٹر مقرر کردی گئی ہے۔ اس سے ایک روز قبل پٹرول 380 روپے 24 پیسے فی لٹر میں فروخت ہورہا تھا۔
یوں چند ہی دنوں کے دوران پٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ نئی قیمت کا براہ راست اثر موٹر سائیکل، کار، رکشہ اور دیگر پٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے صارفین کے روزمرہ اخراجات پر پڑنے کا امکان ہے۔
ڈیزل 415 روپے سے اوپر
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں پٹرول کے مقابلے میں زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔ ڈیزل 6 روپے 41 پیسے مہنگا ہونے کے بعد 415 روپے 83 پیسے فی لٹر ہوگیا ہے۔
ڈیزل کی قیمت میں اضافے کو خاص طور پر اہم سمجھا جارہا ہے کیونکہ ٹرانسپورٹ، مال بردار گاڑیوں، بسوں، ٹریکٹرز اور مختلف کاروباری شعبوں میں ڈیزل کا وسیع استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے ڈیزل کی قیمت میں تبدیلی کا اثر صرف گاڑیوں کے مالکان تک محدود نہیں رہتا بلکہ نقل و حمل کے اخراجات کے ذریعے مختلف اشیا کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
روزانہ قیمتوں کا نظام
حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کو مقامی قیمتوں تک منتقل کرنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے جائزے کا روزانہ نظام اختیار کیا ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق اوگرا کی جانب سے روزانہ پٹرولیم قیمتیں جاری کی جارہی ہیں، جس کے تحت عالمی منڈی میں تبدیلیوں کو زیادہ تیزی سے مقامی قیمتوں میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ حکام کے مطابق قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ میں تیل کی صورتحال اور متعلقہ قیمتوں کے جائزے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
مسلسل اضافوں کا سلسلہ
تازہ اضافے سے قبل بھی ستمبر کے دوران پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں متعدد مرتبہ اضافہ ہوچکا ہے۔ دستیاب قیمتوں کے ریکارڈ کے مطابق 9 ستمبر کو پٹرول 364 روپے 35 پیسے اور ڈیزل 385 روپے 95 پیسے فی لٹر تھا، جبکہ 10 ستمبر کو پٹرول 367 روپے 75 پیسے اور ڈیزل 392 روپے 67 پیسے ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں :پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ٹیکس و مارجنز کا بڑا حصہ، عوام پر فی لیٹر 130 روپے تک اضافی بوجھ
11 ستمبر کو پٹرول کی قیمت 370 روپے 80 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 398 روپے 4 پیسے تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد 12 ستمبر کو پٹرول 375 روپے 82 پیسے اور ڈیزل 403 روپے 32 پیسے ہوگیا۔ 15 ستمبر کو پٹرول 380 روپے 24 پیسے اور ڈیزل 409 روپے 42 پیسے کی سطح پر پہنچا، جس کے بعد 16 ستمبر کے لیے ایک اور اضافہ کردیا گیا۔
عوام پر اضافی بوجھ
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر شہریوں نے شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی نے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کررکھا ہے، ایسے میں پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا ہونے سے روزمرہ زندگی کے اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔
شہریوں کے مطابق پٹرول کی قیمت بڑھنے سے صرف گاڑی میں ایندھن ڈلوانے کا خرچ نہیں بڑھتا بلکہ سفر، کاروبار، اشیائے خورونوش کی ترسیل اور دیگر ضروریات بھی مہنگی ہوجاتی ہیں۔
گھریلو بجٹ متاثر
عوام کا کہنا ہے کہ آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کے باوجود اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ پٹرول کی قیمت میں ہر نئے اضافے کے بعد متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے ماہانہ بجٹ کو متوازن رکھنا مزید مشکل ہوجاتا ہے۔
موٹر سائیکل استعمال کرنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ روزانہ دفتر، کاروبار یا دیگر ضروری کاموں کے لیے سفر کرنا ان کی مجبوری ہے، اس لیے ایندھن کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی ماہانہ اخراجات پر واضح اثر ڈالتا ہے۔
کرایوں اور اشیا پر اثرات
ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے باعث مال بردار گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔ کاروباری حلقوں کے مطابق اگر ایندھن کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو سامان کی ترسیل کے اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف اشیا کی قیمتیں بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔
یوں پٹرولیم مصنوعات کی تازہ قیمتوں نے ایک مرتبہ پھر عام شہریوں کے لیے مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ کردیا ہے، جبکہ نئی قیمتیں 16 ستمبر کے لیے نافذ کردی گئی ہیں۔
