اردو ورلڈ کینیڈا( ویب نیوز ) بھارت کی ریاست کیرالہ میں ایک منفرد کیتھولک شادی کی تقریب نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کرلی، جہاں جڑواں بھائیوں نے جڑواں بہنوں سے شادی کی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ شادی کی مذہبی رسومات بھی جڑواں پادریوں نے ادا کیں۔
یہ منفرد تقریب چنگنّاسری کے تاریخی سینٹ میری سائیرو مالابار میٹروپولیٹن کیتھیڈرل میں منعقد ہوئی، جہاں اکھیل کے تھامس اور نکھل کے تھامس نے جڑواں بہنوں میگی میری تھامس اور ماریا میری تھامس کو جیون ساتھی منتخب کیا۔
یہ بھی پڑھیں :
سعودی خاندان کی شادی کے لیے 500 کلو وزنی دیوہیکل کیک تیار
شادی میں خاندان کے افراد اور دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ تقریب کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد لوگوں کی خاص توجہ کا مرکز بن گئیں۔
دولہا اور دلہن دونوں جڑواں
اس شادی کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ دونوں دولہے آپس میں جڑواں بھائی ہیں جبکہ دونوں دلہنیں بھی جڑواں بہنیں ہیں۔
اکھیل کے تھامس اور نکھل کے تھامس نے میگی میری تھامس اور ماریا میری تھامس سے شادی کی۔ دونوں جوڑوں کے لباس اور تقریب کے انتظامات نے بھی اس منفرد موقع کو مزید یادگار بنا دیا۔
جڑواں پادریوں نے مذہبی رسومات ادا کیں
شادی کو مزید غیر معمولی بنانے والی بات یہ تھی کہ مذہبی رسومات بھی جڑواں پادریوں نے ادا کیں۔
فادر اینٹو پیزھم کٹّل اور فادر اجو پیزھم کٹّل نے شادی کی دعائیہ تقریب کی۔ دونوں پادریوں کا تعلق ڈائوسس آف کانجیرپلی سے بتایا گیا ہے۔
یوں تقریب میں ایک طرف جڑواں دولہے اور جڑواں دلہنیں موجود تھیں تو دوسری جانب مذہبی رسومات ادا کرنے والے پادری بھی جڑواں بھائی تھے۔
پادریوں کے معاونین بھی جڑواں بھائی
منفرد اتفاق یہیں ختم نہیں ہوا۔ شادی کی تقریب میں پادریوں کے معاونین بھی جڑواں بھائی تھے۔
جیرون جیمز اور جوہون جیمز نے تقریب میں پادریوں کے معاونین کی ذمہ داریاں انجام دیں۔ اس طرح شادی کی تقریب میں جڑواں افراد کے کئی جوڑے ایک ہی وقت میں موجود تھے۔
اس غیر معمولی منظر نے تقریب میں شریک افراد کی دلچسپی مزید بڑھا دی جبکہ شادی کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر ہونے کے بعد تیزی سے وائرل ہوگئیں۔
بچپن کا خواب حقیقت بن گیا
مقامی میڈیا کے مطابق میگی اور ماریا بچپن ہی سے ایسی شادی کا خواب دیکھتی تھیں جس میں ان کے خاص دن پر جڑواں افراد ان کے اردگرد موجود ہوں۔
شادی کی تیاریاں شروع ہونے کے بعد دونوں بہنوں اور ان کے اہل خانہ نے اس خواہش کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے جڑواں پادریوں کی تلاش بھی شروع کی۔ بالآخر انہیں جڑواں پادری مل گئے جنہوں نے دونوں بہنوں اور بھائیوں کی شادی کی مذہبی رسومات ادا کیں۔
کیرالہ میں ایسا واقعہ پہلے بھی ہوچکا
کیرالہ میں جڑواں افراد پر مشتمل یہ پہلی منفرد شادی نہیں ہے۔ اس سے قبل 2015 میں تھریسور ضلع کے سینٹ فرانسس زیویئر چرچ میں بھی ایک ایسی ہی شادی ہوئی تھی۔
اس تقریب میں جڑواں بھائی دلراج اور دلکر نے جڑواں بہنوں ریما اور رینا سے شادی کی تھی۔
تاہم حالیہ شادی اس لیے مزید منفرد بن گئی کہ اس میں دولہا اور دلہن کے علاوہ مذہبی رسومات ادا کرنے والے پادری اور ان کے معاونین بھی جڑواں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریب کی تصاویر نے سوشل میڈیا پر صارفین کی خاص توجہ حاصل کی اور یہ شادی ایک دلچسپ اور یادگار واقعے کے طور پر سامنے آئی۔
