اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے ملک کی موجودہ صورتحال کو مکمل جنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس وقت معاشی، فوجی اور سکیورٹی سمیت مختلف محاذوں پر شدید دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
ٹیلی ویژن سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایران اس وقت مکمل معاشی، فوجی اور سکیورٹی جنگ میں ہے۔ انہوں نے ملک کو درپیش معاشی مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو معیشت میں موجود سنگین مسائل پر شرمندگی ہے۔
امریکا کی نئی پابندیوں کی دھمکی
ایرانی صدر نے اپنے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیوں کا بھی حوالہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں :
ایران ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن رہے گا، ایرانی صدر
مسعود پیزشکیان کے مطابق امریکی صدر آسانی سے یہ کہتے ہیں کہ امریکا ایران پر سب سے تباہ کن یا بدترین پابندیاں عائد کرے گا۔ ایرانی صدر نے ان دھمکیوں کو ملک پر جاری دباؤ کا حصہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اس غیر مساوی جنگ کے باوجود اپنی جگہ قائم ہے اور حکومت عوام کی خدمت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
معاشی مشکلات میں اضافہ
ایرانی صدر کے بیان میں ملک کو درپیش معاشی مشکلات اور جنگ کے اثرات پر خاص توجہ دی گئی۔ ایران پہلے ہی طویل عرصے سے امریکی پابندیوں اور مختلف تجارتی رکاوٹوں کا سامنا کر رہا ہے جبکہ موجودہ کشیدگی نے ملکی معیشت پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی کشیدگی برقرار ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے بھی خدشات پیدا کیے ہیں۔
جنگ ختم کرنے پر بھی زور
دوسری جانب ایرانی صدر حالیہ دنوں میں جنگ کے خاتمے کی ضرورت پر بھی زور دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ کو طاقت اور وقار کی پوزیشن سے ختم کرنا بہتر ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں :
ریاستی ادارے مستحکم، استعفے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا: ایرانی صدر
پیزشکیان کے ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی حکومت جنگ کے فوجی اثرات کے ساتھ ساتھ اس کے معاشی اور سیاسی نتائج پر بھی سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
ایرانی صدر کا تازہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کو ایک طرف بیرونی دباؤ اور پابندیوں کا سامنا ہے جبکہ دوسری جانب ملک کی معیشت اور عوام کو درپیش مشکلات حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔
