اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا استعمال اب صرف معلومات حاصل کرنے یا مختلف کاموں کو آسان بنانے تک محدود نہیں رہا ۔
تفریحی صنعت میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے نئے تجربات سامنے آ رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے مکمل طور پر تیار کیا گیا ایک کامیڈی سٹ کام یوٹیوب پر ریلیز کردیا گیا ہے۔
’نو بِگ ڈِیل‘ نامی اس کامیڈی سٹ کام کو برطانوی اے آئی اسٹوڈیو ModeLabs.ai نے تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کو ٹی وی اور تفریحی مواد کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کی ایک نمایاں مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سٹ کام کے ذریعے یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی روایتی پروڈکشن کے طریقہ کار کے علاوہ تخلیقی منصوبوں کو عملی شکل دینے کے لیے کس طرح استعمال ہوسکتی ہے۔
سٹ کام میں وینچر کیپیٹل کی دنیا کی کہانی
’نو بِگ ڈِیل‘ کی کہانی وینچر کیپیٹل کی ہنگامہ خیز دنیا کے گرد گھومتی ہے۔ اس میں جینَس نامی سرمایہ کاری فرم کی ایک غیر معمولی ٹیم کو دکھایا گیا ہے جو ایسے کاروباری خیالات کی تلاش میں رہتی ہے جن میں اربوں پاؤنڈ مالیت پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔
تاہم ٹیم کی کوششیں ہمیشہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوتیں۔ کاروباری منصوبوں کی تلاش کے دوران مختلف حالات پیدا ہوتے ہیں جو بالآخر مزاحیہ اور بعض اوقات تباہ کن نتائج کا باعث بنتے ہیں۔ اسی صورتحال کو سٹ کام کے مزاحیہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
عرب امارات میں مربوط مصنوعی ذہانت پر مبنی عدالتی پلیٹ فارم متعارف
کہانی کا بنیادی موضوع کاروباری دنیا کے دباؤ اور غیر معمولی سرمایہ کاری کے خیالات کے گرد موجود صورتحال کو مزاح کے انداز میں سامنے لانا ہے۔ اس طرح سٹ کام میں ایک طرف وینچر کیپیٹل کی دنیا دکھائی گئی ہے جبکہ دوسری طرف کامیڈی کے ذریعے اس ماحول کے مختلف پہلوؤں کو پیش کیا گیا ہے۔
اینڈریو ڈکسن نے سٹ کام تحریر کیا
’نو بِگ ڈِیل‘ کی تحریر اینڈریو ڈکسن نے کی ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر اس منصوبے کو روایتی ٹی وی پروڈکشن کے ذریعے تیار کرنے کا ارادہ تھا۔
تاہم روایتی طریقے سے پائلٹ ایپی سوڈ بنانے کے عمل کا جائزہ لینے کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ اس کے لیے خاصا وقت اور اخراجات درکار ہوں گے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں مصنوعی ذہانت نے اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے ایک مختلف راستہ فراہم کیا۔
اینڈریو ڈکسن کے مطابق موڈ لیبز کی ٹیم سے ملاقات کے بعد انہیں احساس ہوا کہ اے آئی اس منصوبے کی تیاری کے لیے ایک بالکل نیا طریقہ فراہم کرسکتی ہے۔ اس تجربے نے انہیں روایتی ٹی وی پروڈکشن کے بجائے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے سٹ کام تیار کرنے کی طرف مائل کیا۔
صرف ایک بٹن دبانے سے سٹ کام تیار نہیں ہوا
مصنوعی ذہانت سے تیار کیے جانے والے مواد کے بارے میں عام طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ چند ہدایات دے کر مکمل مواد فوری طور پر تیار کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اینڈریو ڈکسن نے واضح کیا کہ ’نو بِگ ڈِیل‘ کا پائلٹ ایپی سوڈ تیار کرنا صرف ایک بٹن دبانے کا معاملہ نہیں تھا۔
ان کے مطابق اس منصوبے کے پیچھے تخلیقی اور تکنیکی مراحل شامل تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے آئی کو استعمال کرنے کے باوجود سٹ کام کی تیاری کے عمل میں انسانی منصوبہ بندی اور تخلیقی سوچ کی اہمیت برقرار رہی۔
مصنوعی ذہانت نے پروڈکشن کے عمل کے لیے ایک نیا راستہ ضرور فراہم کیا لیکن اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے مطلوبہ نتیجہ حاصل کرنے کے لیے مختلف مراحل سے گزرنا پڑا۔
روایتی ٹی وی پروڈکشن کے لیے نیا متبادل
’نو بِگ ڈِیل‘ کی تیاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مصنوعی ذہانت کو فلم اور ٹی وی سمیت تفریحی صنعت کے مختلف شعبوں میں استعمال کرنے کے امکانات پر توجہ بڑھ رہی ہے۔
اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ اسے مکمل طور پر اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ اس وجہ سے یہ تجربہ اس بحث کو بھی تقویت دیتا ہے کہ مستقبل میں تفریحی مواد تیار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کس حد تک استعمال کی جاسکتی ہے۔
روایتی ٹی وی پروڈکشن میں کسی پائلٹ یا پروگرام کی تیاری کے لیے مختلف وسائل اور وقت درکار ہوتا ہے۔ اینڈریو ڈکسن کے مطابق انہیں بھی ابتدا میں اسی روایتی طریقے سے پائلٹ تیار کرنے کا خیال تھا لیکن بعد میں اے آئی کے امکانات نے انہیں مختلف راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کیا۔
یوٹیوب پر ریلیز کے بعد نئے تجربے کی اہمیت بڑھ گئی
’نو بِگ ڈِیل‘ کو یوٹیوب پر ریلیز کیا گیا ہے جس کے بعد عام ناظرین بھی اس اے آئی پر مبنی کامیڈی سٹ کام کو دیکھ سکتے ہیں۔
اس کی ریلیز کو تفریحی صنعت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اے
یہ بھی پڑھیں:
کیا مصنوعی ذہانت عوام کے لیے خطرہ بن رہی ہے؟ کینیڈانے جواب طلب کرلیا
آئی اب تخلیقی صنعت میں محض معاون ٹیکنالوجی کے طور پر نہیں بلکہ مکمل پروڈکشن کے تجربات کے لیے بھی استعمال ہونے لگی ہے۔
اگرچہ اینڈریو ڈکسن کے مطابق سٹ کام تیار کرنے کا عمل محض ایک بٹن دبانے تک محدود نہیں تھا لیکن مصنوعی ذہانت نے انہیں ایسے منصوبے کو عملی شکل دینے کا موقع فراہم کیا جسے روایتی طریقے سے تیار کرنا زیادہ سست اور مہنگا ثابت ہوسکتا تھا۔
مصنوعی ذہانت اور تفریحی صنعت کا بدلتا منظرنامہ
’نو بِگ ڈِیل‘ کی ریلیز اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس نے مصنوعی ذہانت اور تفریحی مواد کی تیاری کے درمیان تعلق کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ ایک کامیڈی سٹ کام کی مکمل تیاری میں اے آئی کا استعمال اس ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار کو ظاہر کرتا ہے۔
اس تجربے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ مستقبل میں تخلیق کار روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے نئے انداز کے پروگرام اور دیگر تفریحی مواد تیار کرسکتے ہیں۔
’نو بِگ ڈِیل‘ فی الحال یوٹیوب پر ناظرین کے لیے دستیاب ہے۔ برطانوی اے آئی اسٹوڈیو ModeLabs.ai کی تیار کردہ یہ پیشکش اس بات کی ایک عملی مثال بن گئی ہے کہ مصنوعی ذہانت کس طرح تخلیقی خیالات کو اسکرین پر لانے کے لیے ایک نئے پروڈکشن ماڈل کا حصہ بن سکتی ہے۔
