اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) پاکستان کرکٹ ٹیم کے ٹیسٹ کپتان بابر اعظم نے انگلینڈ سیریز میں توقعات کے مطابق کارکردگی نہ دکھانے کے بعد اپنی بیٹنگ فارم اور طویل فارمیٹ کی تیاری بہتر بنانے کے لیے اہم فیصلہ کرلیا ہے۔
بابر اعظم اب سات سال کے طویل وقفے کے بعد ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپسی کر رہے ہیں۔ ان کی شمولیت کو ٹیسٹ کرکٹ میں فارم کی بحالی کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بابر اعظم جاری پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ یعنی او جی ڈی سی ایل کی نمائندگی کریں گے۔ وہ ٹیم کے لیے بطور مہمان کھلاڑی میدان میں اتریں گے۔ اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ اور او جی ڈی سی ایل کے درمیان انتظام کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
ایک بار پھر سے واپسی ہوئی ہے،قومی ٹیم کو اپنی دعائوں میں یاد رکھیں، بابر اعظم
ذرائع کے مطابق بابر اعظم نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے درخواست کی تھی کہ انہیں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کا موقع دیا جائے تاکہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کے لیے اپنی فارم اور ردھم کو بہتر بنا سکیں۔ ان کی درخواست کے بعد پی سی بی نے او جی ڈی سی ایل کے ساتھ انتظام کیا جس کے تحت قومی ٹیسٹ کپتان ڈومیسٹک فرسٹ کلاس مقابلوں میں شرکت کر سکیں گے۔
بابر اعظم کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ کیوں اہم ہے
ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل مشکلات کے باعث بابر اعظم کے لیے ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپسی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ طویل فارمیٹ کی کرکٹ میں بیٹر کو طویل اننگز کھیلنے کے لیے مسلسل میدان میں وقت گزارنے اور مختلف حالات میں اپنی تکنیک آزمانے کا موقع ملتا ہے۔
بابر اعظم بھی اسی مقصد کے تحت ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت کر رہے ہیں۔ قومی سطح پر مسلسل بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کے باوجود ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ سے طویل دوری کے باعث انہیں طویل فارمیٹ میں اپنی بیٹنگ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اضافی میچ پریکٹس کی ضرورت محسوس ہوئی ہے۔
فرسٹ کلاس میچ میں انہیں طویل اننگز کھیلنے کے ساتھ ساتھ مختلف نوعیت کے باؤلرز کا سامنا کرنے کا موقع ملے گا۔ اس طرح وہ ٹیسٹ کرکٹ میں درپیش مسائل پر قابو پانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
ٹیسٹ کرکٹ میں بابر اعظم کی کارکردگی تشویش کا باعث
بابر اعظم کی موجودہ فارم کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ دسمبر 2022 کے بعد سے ٹیسٹ کرکٹ میں سنچری اسکور نہیں کر سکے۔ ان کی آخری ٹیسٹ سنچری نیوزی لینڈ کے خلاف کراچی میں کھیلی گئی تھی جہاں انہوں نے 161 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی۔
اس کے بعد طویل فارمیٹ میں ان کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔ 2023 سے اب تک 39 اننگز میں بابر اعظم کی بیٹنگ اوسط 30.43 رہی ہے۔ اس دوران وہ صرف آٹھ نصف سنچریاں اسکور کر سکے ہیں جبکہ ایک طویل عرصے سے ٹیسٹ سنچری ان کے بلے سے نہیں نکلی۔
بابر اعظم جیسے تجربہ کار اور اعلیٰ معیار کے بیٹر کے لیے یہ اعداد و شمار ان کی موجودہ فارم کے حوالے سے سوالات پیدا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپسی کو ان کے لیے فارم کی بحالی کا ایک اہم موقع قرار دیا جا رہا ہے۔
شارٹ بال کے خلاف مشکلات پر بھی تنقید
بابر اعظم کی بیٹنگ کے حوالے سے سابق کرکٹرز اور ماہرین کی جانب سے مختلف مواقع پر تنقید بھی سامنے آتی رہی ہے۔ خاص طور پر شارٹ بال کے خلاف ان کی مشکلات کو نمایاں کیا جاتا رہا ہے۔
ٹیسٹ کرکٹ میں باؤلرز بیٹر کی کمزوریوں کو مسلسل ہدف بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے میں ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ بابر اعظم کو اپنی تکنیک میں بہتری لانے اور مختلف انداز کی باؤلنگ کے خلاف خود کو زیادہ مؤثر بنانے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔
فرسٹ کلاس مقابلوں میں مسلسل کھیلنے سے بابر اعظم کو اپنی بیٹنگ کے بنیادی پہلوؤں پر دوبارہ توجہ دینے کا موقع ملے گا۔ اس کے علاوہ طویل اننگز کھیلنے کی عادت اور وکٹ پر زیادہ وقت گزارنے سے ان کے اعتماد میں بھی بہتری آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
2019 کے بعد پہلی مرتبہ فرسٹ کلاس کرکٹ
بابر اعظم نے آخری مرتبہ 2019 میں ڈومیسٹک فرسٹ کلاس میچ کھیلا تھا۔ اس وقت انہوں نے سینٹرل پنجاب کی نمائندگی کرتے ہوئے قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل جیتنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
اس کے بعد ان کی توجہ زیادہ تر بین الاقوامی کرکٹ پر رہی اور وہ ڈومیسٹک فرسٹ کلاس مقابلوں میں باقاعدگی سے نظر نہیں آئے۔ اب تقریباً سات سال بعد ان کی دوبارہ ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
دورۂ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے لیے قومی ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان، بابر اعظم کپتان مقرر
یہ واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ان کی ٹیسٹ بیٹنگ فارم پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس لیے بابر اعظم کے لیے یہ مقابلے صرف ڈومیسٹک کرکٹ کا حصہ نہیں بلکہ اپنی فارم ثابت کرنے کا بھی اہم موقع ہوں گے۔
او جی ڈی سی ایل کے لیے بابر اعظم کی شمولیت اہم
او جی ڈی سی ایل کی ٹیم کے لیے بھی بابر اعظم کی شمولیت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ قومی ٹیم کے کپتان اور پاکستان کے نمایاں بیٹر کی موجودگی سے ٹیم کو تجربہ حاصل ہوگا جبکہ نوجوان کھلاڑیوں کو بھی ان کے ساتھ کھیلنے اور سیکھنے کا موقع ملے گا۔
دوسری جانب فاسٹ باؤلنگ آل راؤنڈر عامر جمال بھی ڈومیسٹک کرکٹ میں بطور مہمان کھلاڑی شرکت کر رہے ہیں۔ وہ ایم آئی ٹی ایس کی جانب سے کھیل رہے ہیں۔
یوں پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون میں معروف قومی کھلاڑیوں کی شرکت سے ڈومیسٹک کرکٹ کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔
مستقبل کے لیے بابر اعظم کی نئی کوشش
بابر اعظم کی فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپسی ان کے مستقبل کے حوالے سے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم اس فیصلے کو فوری طور پر کسی بڑے فیصلے یا قومی ٹیم میں ان کی پوزیشن سے جوڑنے کے بجائے فارم بہتر بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بابر اعظم کے لیے ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں عمدہ کارکردگی دکھانا ٹیسٹ کرکٹ میں اعتماد کی بحالی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اگر وہ ان مقابلوں میں طویل اور بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف ان کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی بیٹنگ پر ہونے والی تنقید کا جواب دینے کا موقع بھی ملے گا۔
سات سال بعد فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپسی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بابر اعظم طویل فارمیٹ میں اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اضافی میچ پریکٹس حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اب نظریں اس بات پر ہوں گی کہ وہ او جی ڈی سی ایل کی جانب سے میدان میں اتر کر اپنی بیٹنگ فارم کو کس حد تک بحال کر پاتے ہیں۔
