اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)نیپال اور تبت کی سرحدی حدود میں اچانک آنے والے شدید سیلاب اور مٹی کے تودوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، مختلف علاقوں میں جانی و مالی نقصان کے ساتھ بڑی تعداد میں افراد لاپتا ہوگئے ہیں۔
نیپال کے ٹورازم بورڈ کے مطابق قدرتی آفت کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 389 سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ 1300 سے زائد سیاحوں کے بارے میں تاحال کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں تاہم دشوار گزار پہاڑی راستوں، خراب موسم اور سیلاب کے باعث متعدد مقامات تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔
غیر ملکی سیاح بھی لاپتا
لاپتا ہونے والے سیاحوں میں مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان میں 100 سے زائد بھارتی شہری اور 12 برطانوی شہری بھی شامل ہیں۔
متاثرہ علاقے میں سیاحوں کی بڑی تعداد مذہبی اور سیاحتی سفر کے لیے موجود تھی۔ اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے کئی مقامات پر لوگوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا، جس کے باعث متعدد افراد کے بارے میں رابطہ منقطع ہوگیا۔
حکام کو خدشہ ہے کہ دشوار گزار علاقوں میں موجود مزید افراد بھی متاثر ہوسکتے ہیں اور جیسے جیسے امدادی ٹیمیں دور دراز علاقوں تک پہنچیں گی، نقصان کی اصل صورتحال مزید واضح ہوگی۔
تبت سے خوفناک مناظر
تبت سے سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں سیلاب کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ویڈیو میں پانی اور کیچڑ کا ایک بڑا ریلا تیزی سے سرحدی گزرگاہ کی عمارتوں کی جانب بڑھتا اور ان سے ٹکراتا دکھائی دیتا ہے۔
پانی اور کیچڑ کے اس اچانک ریلے نے علاقے میں موجود عمارتوں اور دیگر تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا۔ واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع ابلاغ پر سامنے آنے کے بعد قدرتی آفت کی شدت کا اندازہ مزید واضح ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :نیپال سیلاب، ٹورنٹو کے 10 شہری لاپتا، 80 افراد سے رابطہ منقطع
لوگ جان بچانے کے لیے بھاگے
نیپال سے سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں بھی سیلابی ریلے کے اچانک آنے کے بعد لوگوں کو جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی جانب بھاگتے دیکھا جاسکتا ہے۔
مقامی افراد اور سیاحوں نے سیلابی پانی اور مٹی کے تودوں سے بچنے کے لیے بلند مقامات کا رخ کیا۔ بعض علاقوں میں سڑکیں اور راستے پانی اور ملبے میں دب گئے، جس سے امدادی ٹیموں کی نقل و حرکت بھی متاثر ہوئی۔
ممکنہ زلزلے کا خدشہ
نیپال کے وزیر خارجہ نے قدرتی آفت کی ممکنہ وجہ کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تباہ کن سیلاب کے پیچھے ممکنہ طور پر زلزلہ اور اس کے نتیجے میں برفانی تودہ گرنے کا واقعہ ہوسکتا ہے۔
تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا اور حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
ماہرین اور متعلقہ ادارے قدرتی آفت سے پہلے اور اس کے دوران رونما ہونے والے واقعات کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ سیلاب اتنی شدت کے ساتھ اچانک کیوں آیا اور اس کے پیچھے کون سے قدرتی عوامل کارفرما تھے۔
چین میں بھی امدادی کارروائیاں
دوسری جانب تبت میں بھی صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر چینی حکومت نے امدادی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔
چینی صدر شی جن پنگ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ذاتی طور پر ہدایات جاری کی ہیں۔ چینی حکام کو متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے اور امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ٹیموں کو متحرک کیا گیا ہے جبکہ لاپتا اور پھنسے ہوئے افراد کو تلاش کرنے کے لیے مختلف مقامات پر سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔
2015 کے زلزلے کے بعد بڑی تباہی
نیپال میں اس قدرتی آفت کو 2015 کے تباہ کن زلزلے کے بعد ملک کو درپیش بڑی قدرتی آفات میں شمار کیا جارہا ہے۔
2015 میں نیپال میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں تقریباً 9 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے اور ملک کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی۔ اس زلزلے نے تاریخی عمارتوں، گھروں، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔
موجودہ سیلاب اور مٹی کے تودوں کے باعث ایک مرتبہ پھر نیپال کے پہاڑی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی کے مناظر سامنے آئے ہیں۔
ریسکیو میں مشکلات
امدادی ٹیموں کے لیے سب سے بڑا چیلنج متاثرہ علاقوں تک رسائی ہے۔ نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے انتہائی دشوار گزار پہاڑی خطے پر مشتمل ہیں جہاں معمول کے حالات میں بھی نقل و حرکت آسان نہیں ہوتی۔
سیلاب کے باعث سڑکوں اور راستوں کو نقصان پہنچنے، مٹی کے تودے گرنے اور خراب موسم نے امدادی کارروائیوں کو مزید مشکل بنادیا ہے۔
حکام کے مطابق کئی مقامات پر امدادی ٹیموں کو متاثرہ افراد تک پہنچنے کے لیے انتہائی مشکل راستوں سے گزرنا پڑ رہا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا ہے۔
ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ
ریسکیو ٹیمیں لاپتا سیاحوں سمیت دیگر متاثرین کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ متعدد متاثرہ علاقوں تک ابھی امدادی ٹیموں کی مکمل رسائی نہیں ہوسکی۔
1300 سے زائد سیاحوں کے لاپتا ہونے کی اطلاعات نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ ان میں بڑی تعداد غیر ملکی شہریوں کی بھی بتائی جارہی ہے، جس کے باعث مختلف ممالک کے سفارتی حکام بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
خاندانوں میں تشویش
لاپتا افراد کے اہل خانہ اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے متعلقہ حکام اور سفارتی اداروں سے رابطے میں ہیں۔ تاہم متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی مسائل کے باعث فوری طور پر ہر فرد کے بارے میں معلومات حاصل کرنا مشکل ثابت ہورہا ہے۔
متعلقہ ممالک کی حکومتیں بھی اپنے شہریوں کی صورتحال جاننے کے لیے نیپالی اور چینی حکام سے رابطے کررہی ہیں۔
امدادی کارروائیاں جاری
نیپال اور تبت میں ریسکیو اداروں کی جانب سے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ امدادی ٹیمیں سیلاب اور ملبے میں پھنسے افراد کو تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کررہی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے موسم بہتر ہوگا اور متاثرہ علاقوں تک رسائی ممکن ہوگی، امدادی سرگرمیوں میں مزید تیزی لائی جائے گی۔
اصل صورتحال سامنے آنے میں وقت لگے گا
قدرتی آفت کی شدت، وسیع پیمانے پر متاثرہ علاقوں اور دشوار گزار جغرافیائی صورتحال کے باعث مکمل نقصان کا اندازہ لگانے میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکام مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور نئی معلومات سامنے آنے کے ساتھ ہلاکتوں اور لاپتا افراد کے اعداد و شمار میں بھی تبدیلی کا امکان ہے۔
فی الحال سب سے بڑی ترجیح لاپتا سیاحوں اور دیگر متاثرین کا سراغ لگانا، زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنا اور متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنا ہے۔
نیپال اور تبت میں جاری امدادی کارروائیوں کے دوران حکام نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر متاثرہ علاقوں کا رخ نہ کریں تاکہ ریسکیو ٹیموں کو امدادی سرگرمیوں میں مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
