اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)نیپال میں رواں ہفتے آنے والے تباہ کن سیلاب اور اچانک آنے والے طغیانی کے ریلوں کے بعد ٹورنٹو کے 10 شہریوں سمیت ایک مذہبی و روحانی تنظیم کے 80 افراد سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ ٹورنٹو سے تعلق رکھنے والے یہ افراد ایک مذہبی یاترا کے سلسلے میں نیپال اور تبت کے علاقے میں موجود تھے۔
سفر کا انتظام کرنے والی تنظیم کے نمائندے کے مطابق لاپتا افراد میں 12 کینیڈین شہری بھی شامل تھے، جن میں سے 10 کا تعلق ٹورنٹو سے ہے۔ تنظیم کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شدید سیلاب کے بعد سے ان افراد سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا۔
80 افراد سے رابطہ نہیں
ایشا فاؤنڈیشن کی شمالی امریکا میں کمیونٹی رابطہ کار لیسلی کریسپی نے جمعرات کو سی بی سی نیوز نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تنظیم کے تقریباً 80 ارکان سے اب تک رابطہ نہیں ہوپایا۔
کریسپی کے مطابق یہ افراد دنیا کے 19 مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک مشترکہ مذہبی سفر پر گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تنظیم کے پاس ان افراد کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے کوئی براہ راست معلومات موجود نہیں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تنظیم مسلسل متعلقہ سفارت خانوں، سرکاری حکام اور دیگر اداروں سے رابطے میں ہے تاکہ لاپتا افراد کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکیں۔
آخری رابطہ کب ہوا؟
لیسلی کریسپی کے مطابق ٹریک کے منتظم نے بدھ کی صبح 9 بج کر 7 منٹ پر ایشا فاؤنڈیشن سے رابطہ کیا تھا۔
اس وقت گروپ چین کے تبت کے علاقے میں واقع گیئرونگ کاؤنٹی کے ایک چینی امیگریشن مرکز پہنچ چکا تھا۔ کریسپی کے مطابق گروپ کے امیگریشن مرکز پہنچنے کے صرف چند منٹ بعد، صبح 9 بج کر 14 منٹ پر اسی علاقے میں اچانک سیلاب آیا۔
اس کے بعد گروپ کے ارکان سے رابطہ قائم نہیں ہوسکا، جس نے ان کے اہل خانہ اور تنظیم کے دیگر ارکان میں شدید تشویش پیدا کردی ہے۔
مذہبی یاترا پر تھے
لاپتا افراد کی یہ ٹیم کیلاش مانسروور یاترا سے واپس آرہی تھی۔ ماؤنٹ کیلاش اور مانسروور جھیل کا سفر کئی مذاہب کے پیروکاروں کے لیے انتہائی مقدس تصور کیا جاتا ہے۔
اس یاترا کو ہندو، بدھ مت، جین مت اور بون مذہب کے پیروکار مذہبی اور روحانی اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں۔ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد اس مقدس مقام کی زیارت کے لیے ہر سال اس خطے کا سفر کرتے ہیں۔
خاندانوں میں تشویش
ایشا فاؤنڈیشن کی نمائندہ نے بتایا کہ لاپتا افراد کے اہل خانہ کے لیے موجودہ صورتحال انتہائی صدمے اور پریشانی کا باعث ہے۔
لیسلی کریسپی کا کہنا تھا کہ یہ افراد تنظیم کے لیے محض شرکا نہیں بلکہ خاندان کی طرح ہیں۔ ان کے مطابق بعض افراد گزشتہ 20 سال سے زیادہ عرصے سے فاؤنڈیشن سے وابستہ ہیں اور اس لیے ان سے رابطہ منقطع ہونا تنظیم کے لیے بھی انتہائی تکلیف دہ صورتحال ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب کی شدت اور اچانک رونما ہونے والے حالات کو دیکھتے ہوئے اس وقت صورتحال کو سمجھنا بھی انتہائی مشکل ہے۔
ٹورنٹو میں ہنگامی اجلاس
لاپتا افراد کے اہل خانہ اور کمیونٹی رہنماؤں نے جمعرات کو مسی ساگا میں ایک ہنگامی اجلاس بھی منعقد کیا۔
نیپالی کمیونٹی کے رہنماؤں نے اجلاس میں لاپتا افراد کا سراغ لگانے اور ان کے اہل خانہ کو معلومات فراہم کرنے کے لیے اقدامات پر غور کیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ کینیڈین حکومت سے بھی مطالبہ کریں گے کہ لاپتا افراد کی تلاش اور ممکنہ ریسکیو کارروائیوں میں مدد فراہم کی جائے۔
’’سب گھبراہٹ میں ہیں‘‘
ٹورنٹو میں نان ریزیڈنٹ نیپالی ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر پنیا مراہٹہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی سیلاب کی ویڈیوز نے خاندانوں کی پریشانی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
ان کے مطابق کمیونٹی کے افراد اس وقت شدید اضطراب کا شکار ہیں اور ہر شخص اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
کمیونٹی رہنماؤں نے خاندانوں سے کہا ہے کہ جن افراد کے پیارے لاپتا ہیں وہ سب سے پہلے وفاقی حکومت کے پاس ان کے نام درج کروائیں تاکہ حکام ان کی تلاش اور رابطے کے عمل کو مربوط کرسکیں۔
کینیڈا حکومت سے رابطہ
کینیڈا کی وزارت خارجہ گلوبل افیئرز کینیڈا نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسے نیپال اور تبت میں تقریباً 30 ایسے کینیڈین شہریوں اور مستقل رہائشیوں کے بارے میں علم ہے جن سے رابطہ نہیں ہوسکا۔
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ زمین پر انتہائی مشکل حالات کے باعث لاپتا افراد کی تعداد میں تبدیلی آسکتی ہے کیونکہ نئی معلومات مسلسل سامنے آرہی ہیں۔
کینیڈین قونصلر حکام لاپتا افراد سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی حفاظت کی تصدیق کے لیے فوری کوششیں کررہے ہیں۔
پانچ اہلکار کھٹمنڈو روانہ
گلوبل افیئرز کینیڈا نے بتایا کہ پانچ قونصلر اہلکاروں کو کھٹمنڈو بھیجا جارہا ہے تاکہ متاثرہ کینیڈین شہریوں کی مدد کی جاسکے اور مقامی حکام اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ بہتر بنایا جاسکے۔
کینیڈین حکام ٹریول ایجنسیوں، مقامی انتظامیہ اور دیگر ممالک کے حکام سے بھی معلومات حاصل کررہے ہیں تاکہ لاپتا شہریوں کا سراغ لگایا جاسکے۔
کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی کہا ہے کہ کینیڈین حکام لاپتا شہریوں سے رابطہ کرنے اور ان کی سلامتی کی تصدیق کے لیے فوری طور پر کام کررہے ہیں۔
امدادی ادارے کی پیشکش
کینیڈا میں قائم قدرتی آفات سے نمٹنے والے امدادی ادارے گلوبل میڈک نے بھی نیپال میں امدادی کارروائیوں کے لیے مدد کی پیشکش کردی ہے۔
ادارے نے پانی صاف کرنے والے موبائل یونٹس، ہنگامی خاندانی کٹس اور ڈرونز نیپال بھیجنے کی پیشکش کی ہے تاکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو بہتر بنایا جاسکے۔
تلاش اور ریسکیو میں مدد
گلوبل میڈک کے مطابق اس کے پانی صاف کرنے والے یونٹس اسپتالوں اور امدادی مراکز میں نصب کیے جاسکتے ہیں، جہاں ان کے ذریعے متاثرہ افراد کو صاف پینے کا پانی فراہم کیا جاسکتا ہے۔
ادارے نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کے ڈرونز متاثرہ علاقوں میں نقصان کا جائزہ لینے، نقشہ سازی اور ممکنہ طور پر تلاش اور ریسکیو سرگرمیوں میں مدد دے سکتے ہیں۔
سیلاب نے تباہی مچادی
نیپال اور تبت کے مختلف علاقوں میں آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ کئی علاقوں میں رابطہ سڑکیں متاثر ہوئی ہیں جبکہ بعض مقامات پر لوگوں کے ایک دوسرے سے رابطے کے ذرائع بھی منقطع ہوگئے ہیں۔
شدید بارش، اچانک آنے والے سیلابی ریلوں اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں کے باعث امدادی ٹیموں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
لاپتا افراد کی تلاش جاری
ٹورنٹو کے 10 شہریوں سمیت 80 افراد سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد ان کے خاندان امید اور تشویش کے درمیان وقت گزار رہے ہیں۔ کینیڈین حکام، سفارتی عملہ، مقامی ادارے اور متعلقہ تنظیمیں لاپتا افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے متاثرہ علاقوں سے رابطہ بحال ہوگا اور نئی معلومات سامنے آئیں گی، لاپتا کینیڈین شہریوں کی صورتحال بھی واضح ہونے کی امید ہے۔ فی الحال خاندانوں اور کمیونٹی کی سب سے بڑی ترجیح اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی اور ان کے بارے میں قابل اعتماد معلومات کا حصول ہے۔
