نیپال کے تباہ کن سیلاب کو ایک ماہ گزر گیا،کینیڈین خاندان تاحال اپنے پیاروں کا منتظر

 اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )  نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے تباہ کن سیلاب کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود متعدد خاندانوں کو اپنے پیاروں کے بارے میں کوئی حتمی اطلاع نہیں مل سکی۔

برٹش کولمبیا کا ایک خاندان بھی اسی کرب سے گزر رہا ہے جس کے دو افراد ایک ماہ سے لاپتا ہیں۔ خاندان کے مطابق مسلسل تلاش اور رابطوں کے باوجود اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔

یہ بھی پڑھیں :

کینیڈا میں سیلاب متاثرین کیلئے حکومتی امداد کا اعلان، ریڈ کراس کی اپیل پر عطیات ڈبل ہوں گے

26 اگست کو ہمالیائی خطے میں آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔ سیلاب کے نتیجے میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جبکہ ہزاروں افراد تاحال لاپتا ہیں۔ کینیڈین حکام کے مطابق 29 کینیڈین شہری اور مستقل رہائشی بھی اب تک لاپتا افراد میں شامل ہیں۔

جوڑے کا ایک ماہ سے سراغ نہیں

کوکٹلم برٹش کولمبیا سے تعلق رکھنے والے سُمیت راولا اور شباکشی راولا بھی لاپتا کینیڈین شہریوں میں شامل ہیں۔ خاندان کے مطابق دونوں میاں بیوی اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ اس وقت بھارت میں موجود تھے جہاں وہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے گئے تھے۔

بعد ازاں سُمیت اور شباکشی نے ہمالیہ کا سفر کرنے کا فیصلہ کیا۔ دونوں تبت میں واقع کیلاش مانسروور کے مذہبی مقام کی جانب ٹریکنگ کے لیے گئے تھے۔ یہ مقام ہندوؤں اور بدھ مت سمیت مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے مذہبی اہمیت رکھتا ہے۔

خاندان کے مطابق سیلاب آنے سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے دونوں کی ایک رشتہ دار سے بات ہوئی تھی۔ اس کے بعد ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔

شباکشی کے کزن وکرم کھوسلا نے صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خاندان کو اب تک کچھ معلوم نہیں کہ دونوں کہاں ہیں اور ان کے ساتھ کیا ہوا۔

بیٹیاں کینیڈا واپس پہنچ گئیں

سُمیت اور شباکشی کی دو بیٹیاں ہیں۔ خاندان کے مطابق ایک بیٹی نوعمر ہے جبکہ دوسری کی عمر 20 برس کے ابتدائی حصے میں ہے۔ دونوں اس وقت کینیڈا واپس پہنچ چکی ہیں۔

خاندان کے مختلف افراد باری باری دونوں بیٹیوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ والدین کے لاپتا ہونے کے باعث گھر کے افراد شدید پریشانی سے دوچار ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

نیپال میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد لاپتہ کینیڈین شہریوں کی شناخت کیلئے ڈی این اے نمونے جمع کرنے کا عمل شروع

وکرم کھوسلا کا کہنا ہے کہ خاندان کے پاس فی الحال انتظار کرنے اور امید رکھنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ ان کے مطابق سب لوگ روزانہ دعا کرتے ہیں کہ شاید سُمیت اور شباکشی زندہ ہوں۔ ممکن ہے وہ زخمی حالت میں کہیں پھنسے ہوئے ہوں اور کسی وقت ان کی خبر مل جائے۔

1400 سے زیادہ لاشیں برآمد

سیلاب کی تباہ کاریوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی امدادی کارروائیاں اور لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔ کینیڈین پریس کی رپورٹ کے مطابق 1400 سے زیادہ لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں جبکہ 5600 سے زیادہ افراد کے بارے میں اب بھی کوئی حتمی معلومات موجود نہیں۔

یہ سیلاب ہمالیائی سرحدی علاقے میں اچانک آیا تھا اور اس نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی۔ سیلاب کی شدت کے باعث متعدد علاقوں میں رابطے متاثر ہوئے اور کئی افراد تک فوری امداد پہنچانا بھی مشکل ہوگیا۔

قدرتی آفت کی شدت اور دشوار گزار پہاڑی جغرافیہ نے لاپتا افراد کی تلاش کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں کسی فرد کے بارے میں فوری معلومات حاصل کرنا امدادی اداروں اور خاندانوں دونوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

29 کینیڈین تاحال لاپتا

گلوبل افیئرز کینیڈا نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ 29 کینیڈین شہری اور مستقل رہائشی اب بھی لاپتا ہیں۔ حکومت کے مطابق کینیڈین حکام نیپال اور چین کے متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر لاپتا افراد کی تلاش اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے کام کر رہے ہیں۔

کینیڈین حکومت نے لاپتا افراد کے معاملات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کی نجی معلومات کے تحفظ کے باعث مزید معلومات عوام کے سامنے نہیں لائی جا سکتیں اور حکومت خاندانوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی تفصیلات بھی ظاہر نہیں کر سکتی۔

حکام نے یہ بھی نہیں بتایا کہ لاپتا 29 کینیڈین شہریوں میں سے کتنے افراد کا تعلق برٹش کولمبیا سے ہے۔

ایک اور کینیڈین جوڑا بھی لاپتا

سُمیت اور شباکشی راولا کے علاوہ میٹرو وینکوور کے علاقے سے ایک اور جوڑے کے لاپتا ہونے کی اطلاع بھی سامنے آ چکی ہے۔ پورٹ موڈی سے تعلق رکھنے والے دھول اور میگھا شاہ بھی سیلاب کے بعد سے لاپتا ہیں۔

ان واقعات نے برٹش کولمبیا میں موجود ان خاندانوں کی پریشانی مزید بڑھا دی ہے جن کے پیارے نیپال کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موجود تھے۔ ایک ماہ گزرنے کے باوجود کئی خاندان اب بھی کسی فون کال، پیغام یا سرکاری اطلاع کے منتظر ہیں۔

خاندان نے امید نہیں چھوڑی

وکرم کھوسلا نے اپنے کزن اور ان کی اہلیہ کو محبت کرنے والے اور دوسروں کا خیال رکھنے والے افراد قرار دیا۔ ان کے مطابق سُمیت اور شباکشی ایک خوشحال اور خوش رہنے والے خاندان کا حصہ تھے اور ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتے تھے۔

خاندان کے لیے یہ یقین کرنا بھی مشکل ہے کہ اتنی بڑی قدرتی آفت کے دوران ان کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا۔ ایک طرف تلاش کا عمل جاری ہے اور دوسری جانب گھر میں موجود بیٹیاں اور دیگر رشتہ دار ہر روز کسی اچھی خبر کے منتظر ہیں۔

سیلاب کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود سُمیت اور شباکشی کا کوئی سراغ نہ ملنا خاندان کے لیے ایک مسلسل آزمائش بن چکا ہے۔ تاہم ان کے عزیز اب بھی اس امید پر قائم ہیں کہ دونوں کسی مقام پر زندہ ہوں گے اور امدادی ٹیمیں یا مقامی حکام انہیں تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

نیپال میں آنے والے اس تباہ کن سیلاب نے صرف مقامی آبادی کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کو بھی گہرے صدمے سے دوچار کیا ہے۔ کینیڈا کے وہ خاندان جن کے پیارے لاپتا ہیں اب بھی سرکاری اداروں اور مقامی حکام کی جانب سے کسی حتمی اطلاع کے منتظر ہیں۔ جب تک لاپتا افراد کے بارے میں قابل اعتماد معلومات سامنے نہیں آتیں ان خاندانوں کی امید اور انتظار کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ہمیں فالو کریں