کینیڈا میں کارنی کے سرمایہ کاری اجلاس کے خلاف بڑا احتجاج، ایک ہزار سے زائد افراد سڑکوں پر نکل آئے

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں وزیراعظم مارک کارنی کی جانب سے منعقد کیے جانے والے سرمایہ کاری اجلاس کے خلاف پیر کو ایک ہزار سے زائد مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے حکومت کی جانب سے غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور ملک کے قدرتی وسائل، عوامی خدمات اور قومی اثاثوں سے متعلق پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

کینیڈا انویسٹمنٹ سمٹ پیر اور منگل کو ٹورنٹو میں منعقد کیا جا رہا ہے، جس کی میزبانی وزیراعظم مارک کارنی کر رہے ہیں۔

ایک ٹریلین ڈالر کا ہدف

وزیراعظم کارنی نے دنیا کے 100 سے زائد بڑے سرمایہ کاروں کو اجلاس میں مدعو کیا ہے۔ حکومت کا مقصد آئندہ پانچ برسوں کے دوران کینیڈا میں تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنا ہے۔

یہ سرمایہ کاری ملک بھر میں تقریباً 167 مختلف منصوبوں میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کارنی کی حکومت عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے دوران کینیڈا کو ایک محفوظ، مستحکم اور قابل اعتماد سرمایہ کاری کی منزل کے طور پر پیش کر رہی ہےتاہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری سے عام کینیڈین شہریوں کو لازمی طور پر فائدہ نہیں پہنچے گا۔

’عوام کی سرمایہ کاری چاہیے‘

ورلڈ بیونڈ وار نامی تنظیم کی منتظم ریچل اسمال نے کہا کہ کینیڈین شہری کرایوں اور روزمرہ اخراجات میں اضافے کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق حکومت کو تعلیم، پبلک ٹرانزٹ اور صحت کے شعبوں میں زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے، لیکن وزیراعظم کارنی اس کے برعکس سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت عوامی وسائل کو ایسے سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کر رہی ہے جہاں عام شہریوں کے لیے کسی یقینی فائدے کی ضمانت موجود نہیں۔

’ہمارا مستقبل فروخت نہیں‘

احتجاج میں مزدور یونینوں، مقامی باشندوں کے نمائندوں، ماحولیاتی کارکنوں، ہاؤسنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے حامیوں سمیت مختلف طبقات نے شرکت کی۔

مظاہرین نے ’دی مینی ورسز دی منی‘ کے عنوان سے احتجاج کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ سرمایہ کاری اجلاس کینیڈا کے عوامی وسائل کو بڑے سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مظاہرین نے نعرے لگائے، ڈھول بجائے اور ایسے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر عوام، صحت، ماحولیات اور بنیادی سہولیات میں سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

آرٹ گیلری تک مارچ

مظاہرین پہلے ٹورنٹو کے نیتھن فلپس اسکوائر میں جمع ہوئے اور بعد ازاں مارچ کرتے ہوئے آرٹ گیلری آف اونٹاریو کے قریب پہنچ گئے، جہاں سرمایہ کاری اجلاس کی افتتاحی تقریب منعقد ہورہی تھی۔

یہ افتتاحی تقریب عام لوگوں اور میڈیا کے لیے بند رکھی گئی تھی۔ مظاہرین کی تعداد مارچ کے دوران بڑھتی گئی اور پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں قائم کر دیں۔

یہ بھی پڑھیں :امریکی ٹیرف وار کے مقابلے کے لیے کینیڈا متحد، مارک کارنی کا بڑا پیغام

آرٹ گیلری آف اونٹاریو کے اطراف میں تقریباً 200 سے 300 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے تاکہ مظاہرین رکاوٹیں عبور نہ کرسکیں۔

مصنوعی ذہانت اور جنگ پر اعتراض

کامن ہورائزن نامی گروپ کی نمائندہ ہیلی اسکون نے کہا کہ مظاہرین سرمایہ کاری کے خلاف نہیں بلکہ سرمایہ کاری کی ترجیحات پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

ان کے مطابق نوجوان کارکن اچھے روزگار اور قابل رہائش مستقبل کے خواہاں ہیں، لیکن انہیں مصنوعی ذہانت، فوجی شعبے اور فوسل فیولز میں بڑھتی سرمایہ کاری پر تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایسا کینیڈا دیکھنا چاہتے ہیں جو قابل تجدید توانائی اور صحت کے شعبے میں عالمی طاقت بنے۔

امریکی کمپنیوں پر بھی اعتراض

اوٹاوا سے آنے والے استاد ٹام ڈیڈمین نے وزیراعظم کارنی کی جانب سے امریکی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کو اجلاس میں مدعو کرنے پر بھی اعتراض کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ تجارتی جنگ کے دوران امریکی کمپنیوں کے سربراہوں کو کینیڈا بلانا تشویش کا باعث ہے۔ مظاہرین کو خدشہ ہے کہ اس عمل کے ذریعے کینیڈا کی عوامی خدمات اور قومی اثاثوں پر غیر ملکی کمپنیوں کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے۔

مقامی آبادی کے تحفظات

پاپلر ریور فرسٹ نیشن سے تعلق رکھنے والی کاکےکا تھنڈر اسکائی بھی احتجاج میں شرکت کے لیے ونی پیگ سے ٹورنٹو پہنچیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں ماحولیاتی جائزوں کو تیزی سے مکمل کرنے اور فرسٹ نیشنز کی زمینوں سے متعلق حکومتی پالیسیوں پر تشویش ہے۔ ان کے مطابق مقامی لوگوں کی زمینیں اور وسائل غیر ملکی سرمایہ کاروں کے منافع کے لیے استعمال نہیں ہونے چاہئیں۔

ویٹسووِٹِن نیشن کے موروثی سربراہ ناموکس نے بھی قومی خودمختاری اور ماحولیاتی تحفظ کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کرہ ارض کی حفاظت کے لیے سب کو متحد ہونا ہوگا۔

حکومت کا دفاع

دوسری جانب وفاقی وزیر صنعت میلانی جولی نے حکومت پر کینیڈا کو غیر ملکی مفادات کے ہاتھوں فروخت کرنے کے الزامات مسترد کردیئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کبھی بھی قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرے گی اور کینیڈین مفادات کا تحفظ اس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

جولی کے مطابق کینیڈا کے پاس اپنے تمام کاروباری اداروں اور بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو ترقی دینے کے لیے مطلوبہ سرمایہ موجود نہیں، اس لیے دوسرے ممالک کی طرح کینیڈا کو بھی غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

’اچھے معاہدے متوقع‘

وفاقی وزیر صنعت نے کہا کہ کامیاب اجلاس کے نتیجے میں اچھے معاہدے اور مفاہمت کی یادداشتیں سامنے آسکتی ہیں، جن سے مستقبل میں مزید سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔ان کے مطابق حکومت کو اجلاس کے اثرات آئندہ تین ماہ سے ایک سال کے دوران نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔

یوں کارنی حکومت ایک جانب ایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کو کینیڈا کی معیشت کے لیے اہم موقع قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب احتجاج کرنے والے گروپوں کا کہنا ہے کہ ملک کی معاشی ترقی کا فائدہ براہ راست عام شہریوں تک پہنچنا چاہیے اور قومی وسائل و عوامی خدمات کو منافع کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے۔

ہمیں فالو کریں