اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران پر طے شدہ امریکی حملے کو دو سے تین دن کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ بعض عرب ممالک کی درخواست پر کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے درخواست کی تھی کہ ایران پر کارروائی کو کچھ وقت کے لیے روک دیا جائے تاکہ جاری سفارتی کوششوں کو موقع مل سکے۔ ان کے مطابق ان ممالک کا مؤقف ہے کہ اس وقت خطے میں سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور ایک ایسا معاہدہ ممکن ہے جو عالمی سطح پر قابلِ قبول ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زیرِ غور معاہدے میں سب سے اہم نکتہ یہ ہوگا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جائے۔ ان کے مطابق اگر ایسا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو صورتحال مختلف سمت اختیار کر سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ فی الحال ایران پر فوری حملے کا فیصلہ مؤخر کر دیا گیا ہے، تاہم انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ اگر کوئی قابلِ قبول معاہدہ نہ ہو سکا تو کسی بھی وقت بڑے پیمانے پر کارروائی کے لیے مکمل تیاری برقرار رکھی جائے۔
واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کا ایک اچھا موقع موجود ہے، لیکن اس کے لیے وقت بہت محدود ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران اس بات پر آمادہ ہو جاتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا تو صورتحال میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حالات میں فیصلہ کن لمحات قریب ہیں اور آئندہ چند دن اس معاملے میں انتہائی اہم ہوں گے۔