اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی سرحدی حکام نے کینیڈا کی شہری اور امریکا کی مستقل رہائشی ایک خاتون کو مبینہ طور پر ووٹر رجسٹریشن اور ووٹ ڈالنے سے متعلق سوالات کے بعد تقریباً چھ گھنٹے تک حراست میں رکھ کر پوچھ گچھ کی۔

خاتون کا کہنا ہے کہ انہیں اس دوران ایسے سوالات کا سامنا کرنا پڑا جیسے انہوں نے امریکی شہری ہونے کا غلط دعویٰ کیا ہو۔ واقعے کے بعد امیگریشن وکلا نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایسے مزید کیسز سامنے آ سکتے ہیں۔

سرحد پر اچانک پوچھ گچھ

رپورٹ کے مطابق پیج ایڈمسن نامی 61 سالہ کینیڈین شہری 15 ستمبر کو برٹش کولمبیا کے شہر ٹوآسن سے سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے بعد گھر واپس جا رہی تھیں۔ وہ گزشتہ 14 برس سے ریاست واشنگٹن کے علاقے پوائنٹ رابرٹس میں امریکی مستقل رہائشی کے طور پر مقیم ہیں اور اس راستے سے سرحد عبور کرنے کی عادی ہیں۔

تاہم اس مرتبہ پوائنٹ رابرٹس سرحدی گزرگاہ پر امریکی اہلکار نے ان سے معمول کے سوالات کے بجائے سب سے پہلے یہ پوچھا کہ کیا انہوں نے کبھی امریکا کے وفاقی انتخابات میں ووٹ ڈالا ہے۔

ایڈمسن کے مطابق انہوں نے اہلکار کو واضح طور پر بتایا کہ انہوں نے کبھی امریکی وفاقی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈالا۔ اس جواب کے فوراً بعد انہیں گاڑی ایک طرف کھڑی کرنے اور دفتر میں آنے کے لیے کہا گیا۔

تقریباً چھ گھنٹے تک کارروائی

ایڈمسن کے مطابق انہیں رات تقریباً 9 بجے ثانوی تفتیش کے مرحلے میں لے جایا گیا۔ اس کے بعد کئی گھنٹوں تک ان سے سوالات کیے گئے اور یہ کارروائی رات 2 بجے کے بعد تک جاری رہی۔

انہوں نے بتایا کہ اس دوران انہیں مختلف دستاویزات پر دستخط بھی کرنا پڑے۔ سی بی سی نیوز کے مطابق ان میں سے ایک دستاویز میں یہ درج تھا کہ اگر حکم دیا گیا تو ایڈمسن کو امریکا سے بے دخلی کے لیے پیش ہونا ہوگا۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات میں ایڈمسن پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے واٹکوم کاؤنٹی میں ووٹر کے طور پر رجسٹریشن کے مقصد سے خود کو امریکی شہری ظاہر کیا۔ دستاویزات میں یہ الزام بھی شامل ہے کہ انہوں نے 2018 کے ریاستی عام انتخابات میں واشنگٹن میں ووٹ ڈالا تھا۔

تاہم ایڈمسن نے پوچھ گچھ کے دوران ان الزامات کی تردید کی۔ سی بی سی نیوز کے جائزہ لیے گئے ٹرانسکرپٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی امریکی وفاقی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈالا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ بھی یاد نہیں کہ انہوں نے کسی ریاستی انتخاب میں ووٹ دیا ہو۔ البتہ انہوں نے تسلیم کیا کہ ممکن ہے انہیں بیلٹ موصول ہوا ہو اور وہ کسی مرحلے پر ووٹر کے طور پر رجسٹر ہوئی ہوں۔

امریکا میں مستقبل خطرے میں

اس واقعے کے بعد ایڈمسن کو اب سیئٹل میں ہونے والی سماعت کا سامنا ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ان کے لیے اس ریاست میں قیام کا مستقبل بھی غیر یقینی ہو گیا ہے جہاں وہ 2012 سے رہ رہی ہیں۔

ایڈمسن نے اپنی صورتحال کے بارے میں شدید ذہنی دباؤ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پریشانی بہت بڑھ چکی ہے۔ ان کے مطابق انہیں اس کارروائی کے دوران ایسا محسوس ہوا جیسے ان کے ساتھ کسی مجرم جیسا سلوک کیا جا رہا ہو۔

انہوں نے بتایا کہ تقریباً پانچ گھنٹے گزرنے کے بعد انہیں پانی دیا گیا جبکہ اس دوران کسی نے یہ بھی نہیں پوچھا کہ انہیں واش روم جانے کی ضرورت ہے یا نہیں۔

وکیل کے پاس مزید کیسز پہنچ گئے

امیگریشن وکیل لین سانڈرز کے مطابق گزشتہ تقریباً ڈیڑھ ہفتے کے دوران تین افراد نے ان سے رابطہ کیا جنہیں امریکی سرحد پر روک کر ووٹنگ یا ووٹر رجسٹریشن کے بارے میں سوالات کیے گئے۔ ان افراد میں ایڈمسن بھی شامل ہیں۔

سانڈرز کے مطابق ان میں سے ایک شخص ریاست واشنگٹن کے شہر بلین کا رہائشی ہے جو روزانہ کام کے سلسلے میں کینیڈا کے برٹش کولمبیا آتا جاتا ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ 25 سال سے زیادہ عرصے پر محیط اپنے پیشہ ورانہ تجربے میں اتنے کم عرصے کے اندر ایک جیسے تین واقعات دیکھنا ان کے لیے غیر معمولی بات ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایسے معاملات صرف ان افراد تک محدود نہیں رہیں گے اور مزید کینیڈین شہری یا امریکا میں مقیم مستقل رہائشی بھی سرحد پر اسی طرح کی پوچھ گچھ کا سامنا کر سکتے ہیں۔

ووٹر رجسٹریشن کا پیچیدہ معاملہ

اس معاملے کا ایک اہم پہلو ریاست واشنگٹن کا ووٹر رجسٹریشن نظام بھی ہے۔ واشنگٹن میں بعض اہل ووٹرز کو ڈرائیونگ لائسنس یا ریاستی شناختی کارڈ حاصل کرنے یا اس کی تجدید کے عمل کے دوران خودکار طور پر ووٹر رجسٹریشن کے نظام میں شامل کیا جاتا ہے۔

ریاستی حکام کے مطابق یہ نظام امریکی شہریت کے ثبوت سے منسلک ہے۔ تاہم سی بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن کے محکمہ لائسنسنگ سے متعلق داخلی ای میلز میں ایسے واقعات کا ذکر موجود ہے جن میں غیر امریکی شہری ووٹر رجسٹریشن کے ریکارڈ میں شامل ہو گئے۔

امیگریشن وکیل لین سانڈرز کے مطابق بعض کینیڈین شہریوں کو یہ غلط فہمی ہو سکتی ہے کہ اگر ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے دوران انہیں ووٹر رجسٹریشن کے عمل میں شامل کیا گیا ہے تو وہ ووٹ ڈالنے کے بھی اہل ہوں گے۔

ان کے مطابق ماضی میں ایسے معاملات میں بعض افراد کو اپنی ووٹر رجسٹریشن ختم کرنے اور یہ وضاحت جمع کرانے کا مشورہ دیا جاتا تھا کہ رجسٹریشن یا ووٹ ڈالنے کا عمل غیر دانستہ طور پر ہوا۔ تاہم سانڈرز کا کہنا ہے کہ موجودہ انتظامیہ کے دور میں صورتحال مختلف دکھائی دے رہی ہے۔

امریکی حکام کا مؤقف

امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن نے سی بی سی نیوز کو ایک بیان میں بتایا کہ جب کوئی مستقل رہائشی امریکی داخلی راستے پر پہنچتا ہے تو سرحدی اہلکار اس کی دستاویزات کو وفاقی اور ریاستی ڈیٹا بیس کے ساتھ چیک کرتے ہیں۔

امریکی ادارے کے مطابق اگر ریکارڈ میں ممکنہ غیر قانونی ووٹر رجسٹریشن، غیر قانونی ووٹنگ یا امریکی شہریت کے بارے میں سابقہ غلط دعوے کا اشارہ ملے تو متعلقہ شخص سے تفصیلی پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے۔

حکام کے مطابق بعض معاملات میں امیگریشن تفتیش طویل ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ شخص کو عدالت یا امیگریشن حکام کے سامنے پیش ہونے کا نوٹس بھی دیا جا سکتا ہے اور بعض کیسز میں باضابطہ بے دخلی کی کارروائی شروع ہو سکتی ہے۔

سرحدی نگرانی مزید سخت ہونے کا دعویٰ

برٹش کولمبیا سے تعلق رکھنے والے امیگریشن وکیل کرس اینڈرز نے کہا کہ امریکی سرحدی نفاذ کا عمل گزشتہ دو دہائیوں کے مقابلے میں زیادہ سخت ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق سرحدی اہلکار جن ڈیٹا بیسز اور ریکارڈز تک رسائی رکھتے ہیں وہ مسلسل وسیع ہو رہے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسی معلومات جو ماضی میں سرحد عبور کرتے وقت مسئلہ نہیں بنی ہو وہ مستقبل میں نئی جانچ کے دوران سامنے آ جائے۔

پوائنٹ رابرٹس میں کینیڈین شہریوں کی بڑی تعداد رہتی ہے اور یہ علاقہ امریکی سرزمین کا ایک الگ تھلگ حصہ ہے جو برٹش کولمبیا کے ڈیلٹا کے جنوب میں واقع ہے۔ ایڈمسن کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد انہیں اپنے علاقے کے دیگر رہائشیوں کے بارے میں بھی تشویش ہے کہ کہیں انہیں بھی سرحد پر اسی نوعیت کی پوچھ گچھ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ایڈمسن کا معاملہ اب سیئٹل میں ہونے والی سماعت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دوسری جانب امیگریشن ماہرین کی جانب سے سامنے آنے والے خدشات اور امریکی سرحدی حکام کے مؤقف نے ووٹر رجسٹریشن اور مستقل رہائشیوں کے سرحدی سفر سے متعلق قانونی پیچیدگیوں کو نمایاں کر دیا ہے۔

ہمیں فالو کریں