اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)وزیراعظم مارک کارنی نے منگل کے روز واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ڈنمارک کے خودمختار علاقے گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ صرف اور صرف ڈنمارک اور گرین لینڈ کے عوام کا حق ہے۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو امریکہ میں ضم کرنے سے متعلق تازہ بیانات کے بعد سامنے آیا ہے، جنہوں نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔
پیرس میں کینیڈین سفارت خانے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کارنی نے کہا کہ کینیڈا ہمیشہ ڈنمارک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا رہے گا، جس میں خودمختار جزیرہ گرین لینڈ بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی تعلقات میں چند بنیادی اصول ہیں، جن میں اقوام کی خود ارادیت، خودمختاری اور سرحدوں کا احترام شامل ہے، اور ان اصولوں سے انحراف قابلِ قبول نہیں۔
کارنی نے مزید کہا کہ نیٹو کے رکن ممالک کی حیثیت سے کینیڈا اور اس کے اتحادی پورے نیٹو خطے کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس میں گرین لینڈ بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق بدلتے ہوئے عالمی سیکیورٹی ماحول اور آرکٹک خطے میں روس اور چین کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے پیشِ نظر، نیٹو ممالک آرکٹک سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے پر کام کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ کینیڈا آئندہ ماہ کے اوائل میں گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک (Nuuk) میں اپنا قونصل خانہ کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ وہ خود قونصل خانے کی افتتاحی تقریب میں شریک ہوں گی، اور اسے گرین لینڈ اور ڈنمارک کے ساتھ کینیڈا کے تعلقات کو مضبوط بنانے کی عملی پیش رفت قرار دیا۔
کینیڈا کی گورنر جنرل میری سائمن، جو خود انوک (Inuk) پس منظر رکھتی ہیں، کے بھی اس موقع پر گرین لینڈ جانے کی توقع ہے۔ وہ اس سے قبل سرکم پولر امور میں کینیڈا کی سفیر اور ڈنمارک میں سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں۔
مارک کارنی پیرس میں یوکرین کے اتحادی ممالک کے اجلاس میں شرکت کے لیے موجود تھے، جہاں روس کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کی صورت میں یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس اجلاس سے قبل انہوں نے ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن سے علیحدہ ملاقات بھی کی۔ فریڈرکسن نے کینیڈا کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آرکٹک خطے کی سلامتی کے لیے نیٹو اتحادیوں کا باہمی تعاون نہایت اہم ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں گرین لینڈ کو امریکی قومی سلامتی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے اس کے الحاق کی بات دہرائی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی انتظامیہ اس مقصد کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ ڈنمارک نے ان بیانات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے امریکی سفیر کو طلب کرنے کا اعلان کیا ہے۔
فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، اسپین اور برطانیہ کے رہنماؤں نے بھی ایک مشترکہ بیان میں گرین لینڈ کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرین لینڈ اس کے عوام کا ہے، اور اس کے مستقبل سے متعلق فیصلے کرنے کا حق صرف ڈنمارک اور گرین لینڈ کو حاصل ہے۔