اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران میں انسانی حقوق کی ممتاز کارکن اور امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی نرگس محمدی کوقید
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نرگس فاؤنڈیشن نے تصدیق کی ہے کہ 53 سالہ نرگس محمدی کو خواتین کے حقوق اور انسانی آزادیوں کے لیے تین دہائیوں سے جاری جدوجہد کے باعث نئی سزا سنائی گئی ہے۔ فاؤنڈیشن کے بیان کے مطابق نرگس محمدی نے جیل سے اپنے وکیل مصطفیٰ نیلی کو فون کرکے سزا سے متعلق آگاہ کیا۔
نرگس فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ نرگس محمدی نے ایک ہفتے پر مشتمل بھوک ہڑتال اتوار کے روز ختم کی تھی، تاہم انہوں نے فون کال کے دوران بتایا کہ ہفتے کے روز انہیں باضابطہ طور پر نئی سزا سنائی جاچکی ہے۔ فاؤنڈیشن کے مطابق کئی ہفتوں تک قیدِ تنہائی میں رکھنے اور بیرونی دنیا سے مکمل رابطہ منقطع کیے جانے کے بعد انہیں پہلی بار مختصر فون کال کی اجازت ملی۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی عدالت نے نرگس محمدی کو قومی سلامتی کے خلاف اجتماع اور سازش کے الزام میں 6 سال قید، جبکہ حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے الزام میں مزید ڈیڑھ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کے علاوہ ان پر ایرانی شہر خوسف میں دو سالہ اندرونی جلاوطنی اور دو سال کے لیے بیرونِ ملک سفر پر پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔
ابھی تک ایرانی وزارت خارجہ یا دیگر حکام کی جانب سے اس فیصلے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس سزا کو آزادیِ اظہار اور بنیادی انسانی حقوق پر قدغن قرار دیا ہے۔یاد رہے کہ نرگس محمدی کو 12 دسمبر کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب انہوں نے معروف وکیل خسرو علی کردی کی مشتبہ موت کی مذمت کی تھی۔ اس حوالے سے پراسیکیوٹر حسن ہمتفار نے میڈیا کو بتایا تھا کہ نرگس محمدی نے مشہد میں علی کردی کی یاد میں منعقدہ تقریب کے دوران اشتعال انگیز بیان دیا اور شرکاء کو نعرے بازی اور امن و امان میں خلل ڈالنے پر اکسایا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق نرگس محمدی اس وقت مشہد کی جیل میں قید ہیں۔ واضح رہے کہ انہیں 2023 میں امن کا نوبیل انعام دیا گیا تھا، تاہم اس وقت بھی وہ ایران میں خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کردار ادا کرنے اور سزائے موت کے خلاف آواز بلند کرنے کے باعث جیل میں تھیں۔سیاسی مبصرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ نرگس محمدی کو دی جانے والی نئی سزا ایران میں اختلافی آوازوں کے خلاف سخت پالیسی کی عکاس ہے، جو عالمی سطح پر ایران کے لیے مزید تنقید اور دباؤ کا سبب بن سکتی ہے۔