اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) موجودہ دور کے اسمارٹ فونز جدید ترین فیچرز سے لیس ہیں اور اکثر 4000 یا 5000 ایم اے ایچ بیٹریز کے ساتھ آتے ہیں
یہ بڑی بیٹریاں دن بھر فون کو چلانے کے لیے کافی ہوتی ہیں، لیکن انہیں مکمل چارج کرنے میں وقت لگتا ہے۔اگرچہ فاسٹ چارجنگ ٹیکنالوجی نے صارفین کے لیے سہولت پیدا کی ہے اور اب کئی فونز 0 سے 80 فیصد صرف 30 منٹ میں چارج ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ چارجنگ ٹائمنگ بیٹری کی نوعیت اور فون کے استعمال پر بھی منحصر ہوتی ہے۔ کمپنیوں کی جانب سے فراہم کردہ ہدایات پر عمل کرنے سے فون کی بیٹری لائف طویل مدت تک برقرار رہتی ہے اور ڈیوائس تیزی سے چارج ہوتی ہے۔
اکثر صارفین فون کو تیزی سے چارج کرنے کے لیے ایک طریقہ آزما رہے ہیں، اور وہ ہے **ڈیوائس کو ائیرپلین موڈ پر رکھ کر چارج کرنا**۔ اس کی منطق یہ ہے کہ جب فون کے سیلولر ریڈیو، وائی فائی اور دیگر کنیکٹیویٹی فیچرز کو بند کیا جاتا ہے، تو بیٹری پر بوجھ کم ہو جاتا ہے اور چارجنگ کی رفتار کچھ حد تک بڑھ جاتی ہے۔
لیکن کیا ائیرپلین موڈ واقعی فون کی چارجنگ کو نمایاں طور پر تیز کر دیتا ہے؟ ماہرین کے مطابق یہ تاثر مکمل طور پر درست نہیں۔ تکنیکی طور پر ائیرپلین موڈ میں فون ذرا تیزی سے چارج ہوتا ہے، لیکن فرق بہت زیادہ نہیں ہوتا۔مثال کے طور پر، اگر کوئی فون ائیرپلین موڈ میں 0 سے 100 فیصد تک 1 گھنٹے 2 منٹ میں چارج ہوتا ہے، تو اسی فون میں موبائل ڈیٹا اور وائی فائی فعال ہونے کی صورت میں یہ تقریباً 1 گھنٹے 9 منٹ میں مکمل چارج ہوتا ہے۔ یعنی فرق صرف 6 سے 7 منٹ کا ہوتا ہے، اور مختلف ماڈلز میں یہ فرق عموماً 4 سے 7 منٹ کے درمیان ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ائیرپلین موڈ تھوڑی رفتار بڑھا دیتا ہے، لیکن زیادہ تر صارفین کے لیے یہ فرق قابلِ ذکر نہیں۔ فون کی بیٹری کی صحت اور دیرپا استعمال کے لیے یہ بہتر ہے کہ ہمیشہ معیاری چارجر اور کمپنی کی ہدایات کے مطابق چارج کیا جائے، اور ائیرپلین موڈ کا استعمال صرف وقتی سہولت کے لیے کیا جائے۔