اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) بھارت نے اپنی فضائی اور بحری جنگی صلاحیت میں اضافے کے لیے فرانس سے مزید رافیل لڑاکا طیارے خریدنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔
بین الاقوامی دفاعی جریدے میلیٹرنی کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی حکومت پہلے سے طے شدہ تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے 26 کے بجائے 31 کیریئر بیسڈ رافیل طیارے حاصل کرنے پر غور کر رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ خریداری بھارت کے ملٹی رول فائٹر ایئرکرافٹ (MRFA) پروگرام کا حصہ ہے، جس کے تحت مجموعی طور پر 114 جدید لڑاکا طیارے حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ اب بھارتی بحریہ کے لیے 31 رافیل ایم (کیریئر بیسڈ) طیارے خریدنے کی تجویز سامنے آئی ہے، جس سے مجموعی آرڈر کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا۔
اگر مجوزہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو بھارت کے آرڈر کردہ رافیل طیاروں کی مجموعی تعداد 145 تک پہنچ جائے گی۔ اس سے قبل بھارت 2016 میں فرانس کے ساتھ 36 رافیل طیاروں کی خریداری کے لیے تقریباً 7.87 ارب یورو مالیت کا بین الحکومتی معاہدہ کر چکا ہے، جس کی ترسیل مکمل ہو چکی ہے۔
مزید برآں 2025 میں بھارتی بحریہ کے لیے 26 نئے رافیل ایم طیاروں کا آرڈر بھی دیا گیا تھا، تاہم اب اس تعداد کو بڑھا کر 31 کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔رپورٹ کے مطابق بھارتی کمپنی ریلائنس ڈیفنس اور سرکاری ادارہ ہندوستان ایرو ناٹکس لمیٹڈ (HAL) رافیل طیاروں کے فریم اور بعض حصوں کی مقامی تیاری میں شراکت دار ہوں گے۔ فرانس کی جانب سے نہ صرف بعض اہم پرزہ جات کی فراہمی بلکہ جدید AASM ہتھیاروں کی تیاری کے حقوق بھی بھارت کو دیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
رافیل طیارہ فرانسیسی دفاعی کمپنی داسو ایوی ایشن کا تیار کردہ جدید ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے، جو فضائی برتری، زمینی اہداف پر حملے اور بحری آپریشنز سمیت متعدد کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے رافیل طیاروں کی تعداد میں اضافے سے جنوبی ایشیا میں اسلحے کی دوڑ مزید تیز ہو سکتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ خطے میں پہلے ہی کشیدگی پائی جاتی ہے اور اس نوعیت کے دفاعی سودے علاقائی توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں بھارت نے اپنی دفاعی پالیسی میں تیزی لاتے ہوئے جدید اسلحہ، میزائل سسٹمز اور جنگی جہازوں کی خریداری پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں، جس کا مقصد فضائی اور بحری برتری کو مستحکم کرنا بتایا جاتا ہے۔اگر نیا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو بھارت جدید رافیل بیڑے کے ساتھ خطے کی بڑی فضائی قوتوں میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرنے کی کوشش کرے گا تاہم اس پیش رفت کے سفارتی اور تزویراتی اثرات پر بحث جاری ہے۔