البرٹا میں زائد المعیاد بچوں کی ادویات تلف،بیرونِ ملک منتقل نہ ہونے سے لاکھوں بوتلیں ضائع

اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)البرٹا میں دو ہزار تئیس کے دوران درآمد کی گئی بچوں کی تقریباً آدھی ادویات عطیہ نہ ہو سکنے کے باعث تلف کر دی گئیں۔ البرٹا ہیلتھ سروسز کے مطابق بیرون ملک عطیے کی کوششیں ناکام رہیں جس کے بعد بڑی مقدار میں دوا کو ضائع کرنا پڑا۔

تقریباً چودہ لاکھ بوتلیں، جو دو ہزار بائیس میں طلب کی گئی پچاس لاکھ بوتلوں کا چوتھائی حصہ تھیں، ستر ملین ڈالر کی لاگت سے حاصل کی گئیں۔ یہ ادویات ترکیہ کی ایک دوا ساز کمپنی سے دو ہزار تئیس میں موصول ہوئیں۔ یہ خریداری اس وقت کی گئی تھی جب ملک بھر میں بخار اور درد کم کرنے والی ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی۔

ادویات موصول ہونے کے بعد البرٹا ہیلتھ سروسز نے دو ہزار پچیس کے وسط میں ایک فلاحی ادارے کے ساتھ معاہدہ کیا تاکہ بچوں کے لیے درآمد شدہ درد اور بخار کی دوا کا باقی ماندہ ذخیرہ ضرورت مند ممالک کو عطیہ کیا جا سکے۔ تاہم صرف نصف مقدار عطیہ کی جا سکی۔ چونکہ ان ادویات کی میعاد دو ہزار چھ کے اوائل میں ختم ہونا تھی، اس لیے تقریباً سات لاکھ بوتلیں ضائع کر دی گئیں۔ یہ ادویات سوان ہلز ٹریٹمنٹ سینٹر میں تقریباً سات لاکھ اٹھارہ ہزار ڈالر کی لاگت سے تلف کی گئیں۔

ادارے کی ترجمان کرسٹی بلینڈ نے بتایا کہ باقی ماندہ دوا عطیہ کرنے میں کئی رکاوٹیں درپیش رہیں، جن میں سب سے بڑی مشکل قلیل میعاد اور ضرورت مند ممالک تک ادویات پہنچانے کے انتظامی مسائل تھے۔

ان کے مطابق جب عطیے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں تو دوا کو ضائع کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ معیاد پوری ہونے والی ادویات کو تلف کرنا غیر معمولی بات نہیں، تاہم ضیاع کم سے کم رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کی جاتی ہےان کے مطابق دو ہزار تئیس سے دو ہزار پچیس کے دوران ذخیرہ کرنے کے اخراجات چار لاکھ اٹھہتر ہزار ڈالر تک پہنچ گئے۔

البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ کی حکومت نے ملک گیر قلت کے دوران ادویات درآمد کرنے کے فیصلے کا مسلسل دفاع کیا ہے۔ تاہم طویل عرصے سے صحت عامہ کی پالیسی کا جائزہ لینے والے تجزیہ کار اسٹیفن لیوس نے اس خریداری کے حجم اور فیصلہ سازی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب میعاد محدود تھی تو اتنی بڑی مقدار کیوں خریدی گئی اور اس کے مؤثر استعمال کی منصوبہ بندی کیوں نہ کی گئی۔

ادھر صوبائی حزب اختلاف نے اس معاملے پر عوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ بعض ناقدین کے مطابق ستر ملین ڈالر کی یہ خریداری ایک بڑا مالی نقصان ثابت ہوئی ہے۔ پالیسی امور کے ماہر اینڈریو لانگہرسٹ کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی مہنگے منصوبوں میں ناقص فیصلوں کی مثالیں سامنے آ چکی ہیں، جس سے ٹیکس دہندگان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں