ارد و ورلڈ کینیڈ ا( ویب نیوز ) برطانیہ نے جعلی ویزوں پر غیر ملکی ملازمین رکھنے والے آجروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کردیا ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایسے اداروں اور کمپنیوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جائیں گے جو ویزا اسپانسرشپ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی یا جعلی دستاویزات پر افراد کو ملازمت دیتے ہیں۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے آجروں پر بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں جبکہ انہیں مستقبل میں بیرونِ ملک سے ملازمین بھرتی کرنے پر پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ بعض سنگین کیسز میں اسپانسرشپ لائسنس منسوخ کیے جانے کا بھی امکان ہے۔
ایک برطانوی اخبار کے مطابق حالیہ عرصے میں جعلی ویزا اسپانسرشپ کے کیسز میں پانچ گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد حکومت نے امیگریشن نظام کو مزید سخت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ملازمت نہ صرف امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے انسانی اسمگلنگ اور استحصال جیسے جرائم کو بھی فروغ ملتا ہے۔دوسری جانب برطانیہ نے سفری اجازت سے متعلق بھی نئے قوانین نافذ کر دیے ہیں۔ 25 فروری (بدھ) سے دوہری شہریت رکھنے والے افراد کیلئے بھی نئی شرائط لاگو ہوں گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر کسی شخص کے پاس برطانوی شہریت ہونے کے باوجود برطانوی پاسپورٹ موجود نہیں تو اسے ملک میں داخلے سے روکا جا سکتا ہے۔نئے قواعد کے تحت دوہری شہریت رکھنے والے افراد کو برطانیہ میں داخلے کیلئے درج ذیل میں سے کسی ایک دستاویز کی ضرورت ہوگی
حکام کے مطابق اگر کسی کے پاس برطانوی پاسپورٹ نہیں ہے تو اسے الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن (ETA) یا متعلقہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔ETA اسکیم کے تحت سیاحتی مقاصد یا اہل خانہ سے ملاقات کیلئے برطانیہ میں زیادہ سے زیادہ 6 ماہ تک قیام کی اجازت دی جا سکتی ہے، تاہم اس کیلئے پیشگی آن لائن منظوری لازمی ہوگی۔برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد امیگریشن نظام کو شفاف بنانا، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کرنا اور قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ نئی پالیسیوں کے تحت امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔