اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا کے صدر ٹرمپ آج انگریس کے مشترکہ اجلاس سے اسٹیٹ آف یونین خطاب کریں گے
جو ان کے دوسرے دورِ صدارت کا پہلا باضابطہ خطاب ہوگا۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ان کا خطاب طویل ہوگا کیونکہ ان کے بقول “کہنے کے لیے بہت کچھ ہے”۔میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خطاب کے دوران ڈیموکریٹک اراکین کی جانب سے احتجاج کا امکان ہے۔ حزبِ اختلاف صدر کی پالیسیوں، خاص طور پر امیگریشن، ٹیرف اور خارجہ امور سے متعلق فیصلوں پر سخت تنقید کرتی رہی ہے، جس کے باعث کانگریس کے ایوان میں کشیدہ ماحول متوقع ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق صدر ٹرمپ اپنے خطاب میں ایران سے ممکنہ مذاکرات اور ان کی ناکامی کی صورت میں آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی بات کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اپنی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کو مضبوط اور فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے دنیا میں جاری مختلف تنازعات کو کم کرانے یا روکنے کا کریڈٹ بھی لیں گے۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر اس بات پر زور دیں گے کہ ان کی پالیسیوں کے باعث امریکا کو عالمی سطح پر مضبوط سفارتی پوزیشن حاصل ہوئی اور کئی محاذوں پر کشیدگی کم ہوئی۔خطاب میں صدر ٹرمپ متنازع تجارتی ٹیرف پالیسی کا دفاع کریں گے اور اسے امریکی صنعت و روزگار کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیں گے۔ وہ معیشت میں بہتری، روزگار کے مواقع اور مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات کو بھی اجاگر کریں گے۔
اس کے علاوہ جرائم کی روک تھام اور غیر قانونی امیگرینٹس کے خلاف کارروائیوں کا ذکر بھی متوقع ہے۔ صدر اپنی سرحدی پالیسیوں کو قومی سلامتی کے لیے ضروری قرار دے سکتے ہیں، جب کہ ڈیموکریٹس ان پالیسیوں کو سخت اور غیر انسانی قرار دیتے رہے ہیں۔صدر ٹرمپ کانگریس سے آئندہ قانون سازی کے لیے تعاون کی اپیل کریں گے اور مختلف داخلی و خارجی امور پر اپنی ترجیحات بیان کریں گے۔ مبصرین کے مطابق وہ اپنی انتظامیہ کی کامیابیوں کو نمایاں کرتے ہوئے آئندہ سیاسی معرکوں کے لیے بنیاد رکھنے کی کوشش کریں گے۔
حالیہ سرویز کے مطابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے، جس پر ری پبلکن حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ مڈٹرم انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کو کم از کم ایک ایوان میں ڈیموکریٹس کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسی تناظر میں ماہرین کا خیال ہے کہ اسٹیٹ آف یونین خطاب صدر ٹرمپ کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے، جہاں وہ نہ صرف اپنی کارکردگی کا دفاع کریں گے بلکہ پارٹی اراکین اور ووٹرز کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔صدر کا یہ خطاب ملکی اور عالمی سطح پر توجہ کا مرکز ہوگا، جب کہ مختلف ٹی وی چینلز اسے براہِ راست نشر کریں گے۔