اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا میں طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے لیے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اربوں ڈالر خرچ کیے گئے
تاہم حالیہ رپورٹس کے مطابق تعلیمی کارکردگی میں خاطر خواہ بہتری دیکھنے میں نہیں آئی، بلکہ بعض حوالوں سے نتائج مایوس کن قرار دیے جا رہے ہیں۔
امریکی جریدے Fortune کی ایک رپورٹ کے مطابق جنریشن زی وہ پہلی نسل بن گئی ہے جس کی علمی اور ادراکی صلاحیتیں اپنے والدین کے مقابلے میں کمزور دیکھی جا رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی تک وسیع رسائی کے باوجود طلبہ کی توجہ، مطالعے کی عادت اور تنقیدی سوچ کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔
طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کا باقاعدہ پروگرام سنہ 2002 میں امریکی ریاست Maine سے شروع ہوا۔ اس منصوبے کا مقصد تعلیمی عمل کو جدید بنانا اور ہر طالب علم کو ڈیجیٹل وسائل تک مساوی رسائی فراہم کرنا تھا۔ بعد ازاں یہ ماڈل دیگر ریاستوں نے بھی اپنایا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ پروگرام ملک بھر میں پھیل گیا۔
رپورٹس کے مطابق صرف 2024 میں امریکی تعلیمی اداروں میں طلبہ کو ڈیجیٹل آلات (لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ اور دیگر ڈیوائسز) فراہم کرنے پر 30 ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے گئے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ سہولیات، سافٹ ویئر لائسنسز اور آئی ٹی سپورٹ پر بھی خطیر رقم خرچ کی گئی۔
نتائج کیوں مایوس کن؟
تعلیمی ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی کا ضرورت سے زیادہ اور غیر منظم استعمال طلبہ کی سیکھنے کی صلاحیت پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ سوشل میڈیا، آن لائن گیمز اور غیر تعلیمی مواد تک آسان رسائی نے توجہ میں کمی اور مطالعے کے رجحان میں گراوٹ پیدا کی ہے۔کچھ تحقیقاتی جائزوں میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اسکرین ٹائم میں اضافے سے یادداشت، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور گہرے مطالعے کی عادت متاثر ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل آلات محض ایک ذریعہ ہیں، اصل کامیابی ان کے متوازن اور مؤثر استعمال میں مضمر ہے۔
پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت
تعلیمی پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ڈیجیٹل تعلیم کے ماڈل کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے۔ بعض حلقے روایتی تدریسی طریقوں اور کتابی مطالعے کی اہمیت پر دوبارہ زور دے رہے ہیں، جب کہ کچھ ماہرین ٹیکنالوجی کے ساتھ متوازن حکمتِ عملی اختیار کرنے کی تجویز دے رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کا تجربہ دنیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک اہم سبق ہے کہ صرف ٹیکنالوجی کی فراہمی تعلیمی معیار کی ضمانت نہیں، بلکہ اس کے درست استعمال، اساتذہ کی تربیت اور نصاب کی بہتری بھی ناگزیر ہے۔