اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) زکوٰۃ اور صدقۂ فطر (فطرانہ) دو الگ الگ مالی عبادات ہیں اور ہر ایک کا اپنا الگ حکم اور نصاب ہے۔ ایک کی ادائیگی سے دوسری ادا نہیں ہوتی۔
صدقۂ فطر کا حکم
صدقۂ فطر ہر اس مسلمان پر واجب ہوتا ہے جو عیدالفطر کے دن (یکم شوال) صبحِ صادق کے وقت اپنی بنیادی ضروریات سے زائد اتنی مالیت کا مالک ہو جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو یا اس سے زیادہ ہو۔ یہ مال نقدی، سامان یا دیگر اثاثوں کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے، چاہے وہ مالِ تجارت نہ ہو۔
اس کی ادائیگی کے لیے سال گزرنا شرط نہیں ، صاحبِ نصاب شخص پر لازم ہے کہ وہ اپنی طرف سے اور اپنی زیرِ کفالت نابالغ اولاد کی طرف سے بھی فطرانہ ادا کرے۔
زکوٰۃ کا حکم
زکوٰۃ مخصوص اموال پر فرض ہوتی ہے جنہیں مالِ نامی کہا جاتا ہے، جیسے سونا، چاندی، نقد رقم، مالِ تجارت اور چرنے والے مویشی۔ اگر ان اموال میں سے کسی ایک کی مقدار نصاب تک پہنچ جائے، یا مختلف اموال کو ملا کر ان کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو جائے اور وہ ضروری اخراجات سے زائد ہو، تو زکوٰۃ واجب ہوجاتی ہے۔البتہ زکوٰۃ کی ادائیگی اس وقت فرض ہوتی ہے جب اس مال پر قمری سال مکمل ہو جائے۔
7