اردوورلڈکیینڈا( ویب نیوز)سوشل میڈیا پر گزشتہ روز ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی جس میں ایک 60 سالہ حکیم کو ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ شادی کی تصاویر اور مناظر شیئر کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیو سامنے آنے کے بعد مختلف پلیٹ فارمز پر صارفین کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا، جبکہ کئی افراد نے دونوں کے درمیان نمایاں عمر کے فرق اور شادی کی نوعیت پر سوالات اٹھائے۔
وائرل ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے تبصروں میں حیرت کا اظہار کیا۔ کچھ صارفین نے عمر کے فرق کو تنقید کا نشانہ بنایا تو بعض نے اسے ذاتی معاملہ قرار دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔ تاہم بحث کا مرکزی نکتہ یہی رہا کہ آیا اس قدر عمر کے فرق کے باوجود شادی کا فیصلہ مناسب ہے یا نہیں۔
اس صورتحال پر متعلقہ حکیم نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شادی باہمی رضامندی سے ہوئی ہے۔ ان کے مطابق یہ رشتہ محبت کی بنیاد پر قائم ہوا جس کے بعد باقاعدہ طور پر خاندانوں کی رضامندی سے نکاح کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسے صرف ارینج یا لو میرج کہنا درست نہیں ہوگا بلکہ یہ دونوں کا امتزاج ہے، کیونکہ پہلے پسند کیا گیا اور پھر باقاعدہ نکاح کے ذریعے رشتہ قائم کیا گیا۔
حکیم کی اہلیہ نے بھی ویڈیو بیان میں اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ نکاح کو عام کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب دو افراد کے درمیان سچی محبت ہو تو عمر کا فرق رکاوٹ نہیں بنتا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں اکثر لوگ ہم عمر سے شادی پر زور دیتے ہیں، مگر اصل اہمیت باہمی سمجھ بوجھ اور خلوص کو دی جانی چاہیے۔
حکیم نے مزید کہا کہ اصل چیز دل کی جوانی ہے، عمر محض ایک عدد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ پہلے سے طلاق یافتہ تھیں اور انہوں نے شرعی طریقے سے نکاح کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے کوئی ناجائز تعلق قائم نہیں کیا، اس لیے منفی تبصرے بلاجواز ہیں۔ ان کے مطابق نکاح ایک جائز اور باعزت راستہ ہے، جبکہ معاشرے میں بعض افراد غیر مناسب تعلقات کو ترجیح دیتے ہیں اور پھر تنقید بھی کرتے ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بحث کو جنم دے رہا ہے کہ شادی جیسے ذاتی فیصلوں میں معاشرتی رائے کس حد تک اثر انداز ہونی چاہیے، اور کیا عمر کا فرق واقعی کسی رشتے کی کامیابی یا ناکامی کا پیمانہ ہو سکتا ہے۔