اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں علیحدگی کے سوال پر سیاسی کشمکش مزید بڑھ گئی ہے، جہاں پارٹی کیوبیکوا کے رہنما پال سینٹ پیئر پلاموندون پر مخالف سیاسی جماعتیں اپنی پہلی مدتِ اقتدار میں ریفرنڈم کرانے کے وعدے سے پیچھے ہٹنے کا الزام لگا رہی ہیں۔ حالیہ ضمنی انتخاب میں ایک اور کامیابی کے بعد یہ موضوع صوبائی سیاست کا اہم ترین مسئلہ بن گیا ہے۔
پلاموندون نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ اگر وہ صوبے کے وزیرِاعلیٰ منتخب ہوتے ہیں تو 2030 تک علیحدگی کے موضوع پر رائے شماری کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں،
تاہم انہوں نے ریفرنڈم کے ٹھیک وقت کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال برقرار رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی حالات، خاص طور پر امریکہ کے ساتھ تعلقات اور عالمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے گا تاکہ صوبے کے مفاد کو نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ ریفرنڈم کے حوالے سے کسی حتمی تاریخ کا اعلان قبل از وقت ہوگا۔
مخالف جماعتوں نے پلاموندون کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ لبرل پارٹی کیوبیک کے رہنما چارلس ملیارڈ نے کہا کہ علیحدگی کا منصوبہ پارٹی کی بنیادی پالیسی کا حصہ ہے، تاہم انہوں نے اسے سیاسی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ پلاموندون وعدے کے باوجود ریفرنڈم میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب ایریک دوئیمے نے کہا کہ علیحدگی کے حامی منصوبے کو عوامی حمایت نہیں مل رہی اور اسی وجہ سے پارٹی اپنے موقف میں نرمی دکھا رہی ہے۔ ان کے مطابق صوبے کے عوام تیسری بار ریفرنڈم نہیں چاہتے۔
کولیشن آوینیئر کیوبیک کی قیادت کے امیدوار برنارڈ ڈرین ویل نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریفرنڈم کا فیصلہ پلاموندون کے موڈ اور سیاسی ماحول پر منحصر دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ رائے دہندگان کو مختلف اشارے دے کر سیاسی ابہام پیدا کیا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار ڈینیل ٹران نے کہا کہ انتخابات میں نو ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے، اس لیے پلاموندون کو اپنے پیغام کو مزید واضح اور متوازن بنانا ہوگا۔ ان کے مطابق زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور امریکہ کے ساتھ جغرافیائی سیاسی تناؤ کاروباری ماحول کو غیر یقینی بنا رہا ہے، جس کے باعث علیحدگی کے موضوع پر محتاط سیاسی بیان ضروری ہو گیا ہے۔