اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) برطانیہ نے امیگریشن نظام کو مزید مؤثر اور مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کے سلسلے میں اہم قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے
کہ 25 فروری 2026 سے 85 ممالک کے شہریوں کیلئے برطانیہ آمد سے قبل الیکٹرانک ٹریول آتھرائزیشن (ETA) حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ بغیر اجازت نامے کے سفر کرنے والوں کو روانگی سے قبل ہی روک دیا جائے گا۔برطانوی حکام کے مطابق یہ نیا نظام ان تمام مسافروں پر لاگو ہوگا جو ویزا کے بغیر برطانیہ میں داخل ہونے کے اہل ہیں۔ ایسے افراد کو سفر سے پہلے آن لائن درخواست دے کر 16 پاؤنڈ فیس ادا کرنا ہوگی، جس کے بعد انہیں الیکٹرانک اجازت نامہ جاری کیا جائے گا۔ یہ اجازت نامہ ڈیجیٹل طور پر پاسپورٹ کے ساتھ منسلک ہوگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک اجازت نامہ اسکیم پہلی مرتبہ 2023 میں متعارف کرائی گئی تھی، جبکہ اپریل 2025 میں اس کا اطلاق یورپی یونین کے ممالک کے شہریوں تک محدود تھا۔ تاہم اب اسے باقاعدہ طور پر وسیع کرتے ہوئے 85 ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے اور اس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔نئے قواعد کے تحت ایئر لائنز بھی پابند ہوں گی کہ وہ ایسے مسافروں کو جہاز پر سوار نہ ہونے دیں جن کے پاس درست الیکٹرانک اجازت نامہ، ای ویزا یا دیگر ضروری سفری دستاویزات موجود نہ ہوں۔ بصورت دیگر متعلقہ ایئر لائنز کو جرمانے یا قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔البتہ برطانوی شہریوں، آئرلینڈ کے شہریوں، دوہری شہریت رکھنے والے افراد اور وہ لوگ جو پہلے سے برطانیہ میں رہائش کا قانونی اجازت نامہ رکھتے ہیں، انہیں اس شرط سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد سرحدی سکیورٹی کو مضبوط بنانا، غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام اور مسافروں کی پیشگی جانچ کو یقینی بنانا ہے۔ حکام نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے سفر سے قبل سرکاری ویب سائٹ پر جا کر ضروری معلومات حاصل کریں اور بروقت اجازت نامہ حاصل کریں تاکہ کسی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔