اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایرانی فوج کا ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد سخت ردعمل
قیادت پر حملہ ناقابلِ برداشت اقدام ہے اور اس کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ایرانی فوج کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’جارح کو ہر صورت سزا دی جائے گی اور دشمن کو اپنے اقدام کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔‘‘فوجی بیان میں کہا گیا کہ ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی وقار کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے۔ اعلامیے کے مطابق مسلح افواج مکمل الرٹ ہیں اور قومی قیادت پر حملے کو ایران کے خلاف کھلی جارحیت تصور کیا جا رہا ہے۔ فوج نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایرانی عوام کے خون کا حساب لیا جائے گا اور ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ ایرانی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ خامنہ ای ہفتے کے روز ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے۔ پورٹس کے مطابق سپریم لیڈر کو ان کے دفتر میں نشانہ بنایا گیا۔ سرکاری اعلان کے بعد ملک بھر میں 7 روزہ عام تعطیل اور 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ اہم سرکاری عمارتوں پر سیاہ پرچم لہرا دیے گئے ہیں۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ حملے ایران کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ ہیں اور اس کے نتائج خطے میں دور رس اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی فوج کے سخت بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔