اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ڈنمارک نے عوامی صحت کے میدان میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کرتے ہوئے
ماں سے بچے میں ایچ آئی وی کی منتقلی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہےجس کی تصدیق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے بھی کر دی ہے۔ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہنم گیبریسیس نے اس کامیابی کو صحتِ عامہ کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مضبوط حکومتی عزم، مؤثر پالیسی سازی اور صحت کے نظام میں مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے مہلک بیماریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی سے حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کو محفوظ بنانے میں مدد ملی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق ڈنمارک نے 2021 سے 2024 کے دوران تمام ضروری اہداف کامیابی سے حاصل کیے، جن میں بیماری کی منتقلی کی انتہائی کم شرح، حمل کے دوران بروقت ٹیسٹنگ اور مؤثر علاج کی فراہمی شامل ہے۔یورپ کے لیے ڈبلیو ایچ او کے ریجنل ڈائریکٹر ہینس ہینری پی کلوگ نے کہا کہ یہ کامیابی ڈنمارک کے مضبوط اور مربوط نظامِ صحت کا نتیجہ ہے، جہاں ہر حاملہ خاتون تک معیاری طبی سہولیات کی رسائی یقینی بنائی گئی۔
ڈنمارک کی وزیر صحت نے اس کامیابی کو ملک کے لیے فخر کا لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مستقبل میں بھی عوامی صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔حکام کے مطابق یونیورسل ہیلتھ کوریج، حمل کے دوران جامع اسکریننگ پروگرامز، جدید ڈیٹا سسٹم اور بروقت علاج اس کامیابی کے بنیادی عوامل ہیں۔ مزید برآں، ڈنمارک اب ہیپاٹائٹس بی کے خاتمے کے لیے بھی اقدامات کر رہا ہے تاکہ “ٹرپل ایلیمینیشن” کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ماہرین کے مطابق یہ کامیابی دیگر ممالک کے لیے ایک مثال ہے کہ مناسب حکمت عملی، وسائل اور عزم کے ساتھ مہلک بیماریوں کا خاتمہ ممکن ہے۔