اردو رلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکہ اور اسرائیل کے جوائنٹ حملوں نے تحریکِ جنگ کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے
جس میں ایران کے صنعتی مراکز، پیٹروکیمیکل سائٹس اور جوہری پاور پلانٹ کے قریب اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان تازہ حملوں کے نتیجے میں ایک سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوگیا جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، اور خطے میں تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، جنوبی ایران کے صوبے خوزستان میں واقع مہشہر سپیشل پیٹروکیمیکل زون پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے کیے گئے، جس میں بندر امام پیٹروکیمیکل کمپلیکس سمیت متعدد پیٹروکیمیکل یونٹس کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ نقصان کا دائرہ اور بھی وسیع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سینٹرل ایران میں واقع **بوشہر جوہری پاور پلانٹ** کے قریب بھی حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار **ہلاک** ہوا، تاہم پلانٹ کے مرکزی حصوں کو شدید نقصان نہیں پہنچا اور اس کی نیوکلیئر پیداوار متاثر نہیں ہوئی، جیسا کہ ایرانی حکام نے بتایا ہے۔ حملے کے بعد روس نے بوشہر پلانٹ سے اپنے **198 عملے کے اراکین کو نکال لیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی فریقین اس بحران کے بڑھتے خطرات کا پیشگی احساس رکھتے ہیں۔
یہ حملے ایسی صورتحال میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ نے ایران پر اپنے حملوں کے سلسلے کو **48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن** کے ساتھ دھمکی آمیز خطوط کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے اور تنازعہ کا دائرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ علاقے میں جاری جنگ کی وجہ سے نہ صرف ایران کے صنعتی مراکز بلکہ توانائی کی سپلائی زنجیریں، عالمی توانائی مارکیٹ اور خطے کی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ بین الاقوامی نگرانی اداروں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ جوہری تنصیبات یا اس کے گرد موجود اضافی عمارات کو نشانہ بنایا جانا عالمی خطرات کو بڑھا سکتا ہے، اگر حفاظتی نظام کمزور پڑیں تو ریڈی ایشن کے اخراج کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ان تازہ حملوں نے اس جنگ کو ایک نئے سنگِ میل پر پہنچا دیا ہے، جہاں خطے میں عدم استحکام، انسانی نقصانات، اور عالمی معاشی اثرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اور صورتحال مزید نازک ہوتی جا رہی ہے۔