اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) تہران ایرانی فوجی ذرائع اور مبینہ طور پر ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے اس پائلٹ کو ہلاک کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں
جو دو روز قبل ایک فضائی جھڑپ کے دوران تباہ ہونے والے امریکی طیارے سے بچ کر ایران میں اتر آیا تھا۔ایرانی فوج کے مطابق، جب امریکی طیارہ تباہ ہوا اور پائلٹ کامیابی سے اس سے نکلنے میں کامیاب ہوا، تو ایرانی حکام نے اسے ایران کے علاقے Kohgiluyeh میں پایا۔ تاہم، اب دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکہ نے اس خطے میں متعدد بار بمباری کی ہے، جس کا مقصد اسی پائلٹ کو نشانہ بنانا ہے، تاکہ اسے ہلاک کیا جا سکے۔
ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں میں غیر مصدقہ ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر اس پائلٹ کو ایرانی حکام نے گرفتار کر لیا ہے، مگر ایران کی جانب سے اس دعوے کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ ایرانی فوج کے ایک اہلکار نے پائلٹ کی موجودگی کے حوالے سے بات کرنے سے گریز کیا، لیکن انہوں نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام سچ سامنے نہیں لا رہے اور وہ حقیقت کو چھپا رہے ہیں، حتیٰ کہ اس پائلٹ کے بارے میں بھی درست معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں جنہیں بچانے کا الزام امریکہ لگا رہا ہے۔
یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عالمی سطح پر بڑھتی جا رہی ہے، اور دونوں فریقوں کے درمیان ہر جانب بیانات، الزامات اور اطلاعات کا تبادلہ جاری ہے۔ اگرچہ ابھی تک اس امریکی پائلٹ کے حوالے سے کوئی آزاد یا بین الاقوامی ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات سامنے نہیں آئی، لیکن ایرانی میڈیا اس صورتحال کو اپنے نقطۂ نظر سے پیش کر رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ مزید نازک بنتا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے دعوے اس خطے میں پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں جہاں جنگ، اطلاعاتی محاذ اور فوجی جھڑپوں کی وجہ سے حقیقت اور افواہوں کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں عالمی میڈیا اور تجزیہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام فریقین کی اطلاعات کا بغور جائزہ لیں اور آزاد ذرائع سے تصدیق کریں، تا کہ کسی بھی غلط فہمی یا مبہم صورتحال سے بچا جا سکے۔