اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک نئے خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے
جب اسرائیل کی فوج نے علی الصبح ایران کے مختلف شہروں، خصوصاً دارالحکومت تہران، میں فضائی حملوں کی ایک منظم لہر مکمل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ان حملوں کا ہدف ایران کا اہم انفراسٹرکچر تھا، جس میں توانائی کے مراکز، مواصلاتی نظام اور دیگر اسٹریٹجک تنصیبات شامل تھیں، تاکہ ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔ حملوں کے نتیجے میں متعدد مقامات پر شدید نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں بجلی اور مواصلاتی نظام عارضی طور پر معطل ہونے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں کے دوران تہران میں ایک یہودی عبادت گاہ بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئی، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایران نے اس واقعے کو “جارحیت کی کھلی مثال” قرار دیتے ہوئے فوری اور سخت ردعمل کا اعلان کیا۔ ایرانی فوج کے مطابق انہوں نے اسرائیل کے خلاف جوابی حملوں کا آغاز کر دیا ہے، جن میں میزائل اور ڈرون حملے شامل ہیں، اور یہ کارروائیاں اسرائیلی عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم تیزی سے شدت اختیار کر رہا ہے۔ عالمی طاقتیں اور بین الاقوامی تنظیمیں فوری جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دے رہی ہیں، تاہم زمینی حقائق اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ خطہ ایک بڑے تنازع کی طرف بڑھ رہا ہے۔ موجودہ حالات میں کسی بھی غلط اندازے یا مزید اشتعال انگیزی کے نتیجے میں یہ کشیدگی ایک وسیع جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔