اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیو ز ) کینیڈا کی معروف ایئرلائن WestJet نے بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے باعث مسافروں پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کا اعلان کر دیا ہے۔
کمپنی کے مطابق “کمپینین واؤچر” (Companion Voucher) کے تحت بک کی جانے والی تمام پروازوں پر عارضی طور پر 60 ڈالر کا فیول سرچارج عائد کیا جا رہا ہے، جس کا اطلاق 8 اپریل سے ہوگا۔ ایئرلائن نے واضح کیا ہے کہ اس تاریخ سے پہلے کی گئی بکنگز اس اضافی فیس سے مستثنیٰ ہوں گی۔یہ کمپینین واؤچر دراصل ایک خصوصی سہولت ہے جو WestJet RBC Mastercard ہولڈرز کو فراہم کی جاتی ہے، جس کے ذریعے وہ کسی دوسرے مسافر کو کم کرائے پر ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے تحت کرایوں میں فوری ردوبدل ممکن نہیں ہوتا، اسی لیے بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے سرچارج نافذ کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔
ایئرلائن کے ترجمان کے مطابق عالمی سطح پر جیٹ فیول کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بنیادی طور پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا نتیجہ ہے، جس کے باعث ایئرلائنز کے آپریشنل اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ “ایندھن ایئرلائن کے اخراجات کا سب سے بڑا حصہ ہوتا ہے، اور موجودہ صورتحال میں عارضی سرچارج کے ذریعے ہی بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کو سنبھالا جا سکتا ہے۔”اس کے ساتھ ساتھ WestJet نے اپنے فلائٹ آپریشنز میں بھی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق کم طلب والے روٹس پر پروازوں کو یکجا (consolidate) کیا جا رہا ہے اور سیزنل پروازوں کے شیڈول میں ردوبدل کیا جا رہا ہے۔ اپریل میں تقریباً ایک فیصد جبکہ مئی میں تین فیصد تک فلائٹ کپیسٹی کم کی جا رہی ہے۔ متاثرہ مسافروں کو متبادل پروازوں کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، اکثر اسی دن کے اندر۔
ماہرین کے مطابق جیٹ فیول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ایئرلائن انڈسٹری کے لیے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ Boeing 787-9 جیسے بڑے طیارے کی ایک طویل پرواز کے لیے ہزاروں لیٹر ایندھن درکار ہوتا ہے، اور حالیہ مہینوں میں ایک ہی روٹ پر فیول لاگت میں دسیوں ہزار ڈالر کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایندھن کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو نہ صرف مزید سرچارجز لگائے جا سکتے ہیں بلکہ بیگج فیس اور دیگر اضافی چارجز میں بھی اضافہ ممکن ہے۔ مجموعی طور پر ایئرلائنز اس وقت اخراجات اور منافع کے درمیان توازن قائم رکھنے کے لیے مشکل فیصلے کرنے پر مجبور ہیں، اور مسافروں کو مستقبل میں مہنگے فضائی سفر کے لیے تیار رہنا ہوگا۔