اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے
جہاں ایران نے جنگ بندی کے تناظر میں آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کے لیے عالمی بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کا عندیہ دیا گیا اور سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ یہ اعلان ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کی منظوری کے بعد کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران پر حملے مکمل طور پر روک دیے جاتے ہیں تو ایرانی افواج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں معطل کر دیں گی۔عباس عراقچی نے پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم اور مسلسل کوششیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی 15 نکاتی تجاویز نے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
بیان کے مطابق ایران نے امریکی درخواست پر مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی، جبکہ امریکی صدر کی جانب سے ایران کی 10 نکاتی تجاویز کے عمومی فریم ورک پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ یہ پیشرفت دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ سفارتی حل کی جانب ایک مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا فیصلہ محدود مدت کے لیے ہے اور اس دوران بحری آمدورفت کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس سہولت کے ساتھ کچھ تکنیکی شرائط اور حفاظتی اقدامات بھی لاگو ہوں گے جن پر عملدرآمد ضروری ہوگا۔تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اور اس کا کھلنا عالمی منڈیوں میں استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو یہ پیشرفت خطے میں دیرپا امن کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔