اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد ایران بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی
اور شہری بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ مختلف شہروں میں عوام نے جشن مناتے ہوئے امن کے قیام کا خیرمقدم کیا۔عینی شاہدین کے مطابق دارالحکومت تہران سمیت کئی بڑے شہروں میں لوگوں نے قومی پرچم اٹھا رکھے تھے اور پرجوش نعرے بازی کی۔ مظاہروں میں خواتین، بچے، بزرگ اور نوجوان سب شریک تھے، جس سے یہ منظر ایک قومی یکجہتی کی تصویر پیش کر رہا تھا۔
متعدد مقامات پر شہریوں نے اہم تنصیبات کے گرد انسانی زنجیریں بھی بنائیں، جن کا مقصد امن اور استحکام کے لیے یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے اور جنگ بندی کو ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔
ادھر ایرانی فنکار علی قمصری نے دماوند پاور پلانٹ کے باہر دھرنا دیا اور اعلان کیا کہ وہ موسیقی کے ذریعے امن کا پیغام پھیلائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے بجائے ثقافت اور فن کو فروغ دیا جانا چاہیے۔دوسری جانب بغداد میں بھی جنگ بندی کی خبر سنتے ہی جشن کا سماں دیکھنے میں آیا۔ شہری رات گئے گھروں سے باہر نکل آئے اور ایران پر مسلط کشیدگی کے خاتمے کو خوش آئند قرار دیا۔ لوگوں نے اس پیشرفت کو پورے خطے کے لیے مثبت قدم قرار دیا۔
یاد رہے کہ جنگ بندی سے قبل حالات انتہائی کشیدہ ہو چکے تھے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کے باعث خدشات بڑھ گئے تھے۔ تاہم آخری لمحات میں سفارتی کوششیں کامیاب ہوئیں اور دونوں جانب سے کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جنگ بندی اگر برقرار رہتی ہے تو نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔