اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا میں جاری ایک تازہ جائزہ رپورٹ نے عوامی رائے کا ایک پیچیدہ منظر پیش کیا ہے، جس میں صوبائی حکومت کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں نسبتاً بہتر درجہ دیا گیا ہے، تاہم اس کے باوجود شہریوں کی ایک بڑی تعداد صوبے کی مجموعی سمت سے مطمئن نہیں دکھائی دیتی۔
غیر منافع بخش ادارے اینگس ریڈ انسٹیٹیوٹ کی جاری کردہ اس رپورٹ کے مطابق وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کی قیادت میں حکومت کو اہم قومی اور صوبائی مسائل پر دیگر صوبوں کی نسبت بہتر انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ مگر رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ یہ برتری صرف تقابلی نوعیت کی ہے اور اسے مکمل اطمینان سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹ کے مطابق صحت کی سہولیات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی وہ دو بڑے مسائل ہیں جنہیں البرٹا کے شہری سب سے زیادہ اہم قرار دیتے ہیں، اور انہی شعبوں میں حکومت کو سب سے زیادہ تنقید کا سامنا ہے۔ تقریباً سڑسٹھ فیصد افراد نے صحت کے نظام کو ناکافی قرار دیا، جبکہ چھیاسٹھ فیصد نے مہنگائی کے معاملے پر حکومتی کارکردگی کو کمزور بتایا۔
اگرچہ تقریباً ایک تہائی افراد نے ان دونوں شعبوں میں حکومتی اقدامات کو تسلی بخش قرار دیا، لیکن یہ تناسب بھی دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ہونے کے باوجود مجموعی بے اطمینانی کو ختم نہیں کر سکا۔
صوبے کی مجموعی سمت کے حوالے سے بھی عوامی رائے تقسیم نظر آئی۔ باون فیصد افراد کا کہنا ہے کہ البرٹا غلط سمت میں جا رہا ہے، جبکہ اڑتیس فیصد نے اسے درست سمت قرار دیا۔ اس کے باوجود یہ شرح دیگر کئی صوبوں کے مقابلے میں بہتر ہے اور البرٹا اس فہرست میں ساسکچیوان اور مینیٹوبا کے بعد تیسرے نمبر پر آتا ہے جہاں لوگ اپنی صوبائی پیش رفت کو مثبت سمجھتے ہیں۔
یہ رپورٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اگرچہ البرٹا کی حکومت کو دیگر علاقوں کے مقابلے میں نسبتاً بہتر سمجھا جا رہا ہے، لیکن عوامی توقعات پر مکمل طور پر پورا اترنے میں ابھی بھی نمایاں خلا موجود ہے، خاص طور پر ان مسائل میں جو براہِ راست شہریوں کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔