اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)دفتر خارجہ نے لبنان میں حالیہ حملوں پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کے ذریعے اسرائیلی جارحیت کو روکے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان لبنان میں ہونے والی کارروائیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، جن کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی اقدامات نہ صرف خطے کے امن کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر جاری سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ ان کے بقول یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔ پاکستان نے ایک بار پھر لبنان کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی لبنان بھر میں ہونے والے وسیع حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے فوری طور پر کارروائیاں روکنے کی اپیل کی ہے۔ ان کے جاری کردہ بیان کے مطابق ان حملوں میں سینکڑوں شہری، جن میں بچے بھی شامل ہیں، جاں بحق اور زخمی ہوئے جبکہ شہری تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ لبنان میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں نہ صرف جاری جنگ بندی کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں بلکہ خطے میں پائیدار اور جامع امن کی کوششوں کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے چند ہی گھنٹوں بعد لبنان پر شدید حملے کیے گئے، جن میں 254 افراد جاں بحق اور گیارہ سو سے زائد زخمی ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق صرف دس منٹ کے دوران سو سے زائد حملے کیے گئے، جو اس کشیدگی کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ اس جنگ بندی معاہدے میں لبنان شامل نہیں ہے، جبکہ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوتا۔ اس صورتحال نے خطے میں مزید غیر یقینی اور کشیدگی کو جنم دیا ہے۔
قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اپنے بیان میں لبنان کا واضح طور پر ذکر کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا تھا، جبکہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے انتہائی تشویشناک قرار دیا۔