اردو ورلڈ کینیڈا( ویب نیوز ) سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس پیش رفت کے بارے میں بہت پُرامید ہیں
کیونکہ ان کے مطابق ایران کی قیادت اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ معقول اور سنجیدہ رویہ اختیار کر رہی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری یا متوقع مذاکرات کسی مثبت نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر استحکام کا باعث بنے گا۔
تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے ساتھ ہی خبردار بھی کیا کہ اگر یہ امن معاہدہ طے نہ پا سکا تو اس کے نتائج انتہائی تکلیف دہ اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال میں کشیدگی میں اضافہ، مزید اقتصادی پابندیاں اور حتیٰ کہ تصادم کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں، جو مشرقِ وسطیٰ کے امن کو شدید متاثر کریں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے اور دونوں فریقین کو سنجیدگی کے ساتھ سفارتی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں تاکہ کسی بڑے بحران سے بچا جا سکے۔
یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات طویل عرصے سے تناؤ کا شکار رہے ہیں، خاص طور پر جوہری پروگرام کے معاملے پر اختلافات شدت اختیار کرتے رہے ہیں۔ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں امریکہ نے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید خراب ہو گئے تھے۔ موجودہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگرچہ حالات پیچیدہ ہیں، لیکن سفارتکاری کے ذریعے بہتری کی گنجائش اب بھی موجود ہے، اور آنے والے دن اس حوالے سے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔