اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) سعودی عرب میں حالیہ حملوں کے نتیجے میں توانائی کے شعبے کو شدید دھچکا پہنچا ہے
جس کے باعث ملک کی تیل اور گیس کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق مختلف صنعتی اور توانائی کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف پیداوار میں کمی واقع ہوئی بلکہ عالمی سطح پر بھی توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک بڑے تیل پمپنگ اسٹیشن پر حملے کے بعد تقریباً 7 لاکھ بیرل یومیہ تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، جبکہ منیفہ اور خریص جیسے بڑے آئل فیلڈز میں نقصان کے باعث مزید 3 لاکھ بیرل یومیہ پیداوار کم ہو گئی۔ اس طرح مجموعی طور پر سعودی عرب کی تیل پیداواری صلاحیت میں تقریباً 6 لاکھ بیرل یومیہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو عالمی منڈی کے لیے ایک اہم دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ جبیل، راس تنورہ، ینبع، سامرف اور ریاض کی ریفائنریاں بھی ان حملوں کی زد میں آئیں، جس سے تیل کی ریفائننگ اور ترسیل کے نظام میں خلل پیدا ہوا۔ جُعیمہ کے پروسیسنگ پلانٹس میں آگ لگنے سے ایل پی جی کی برآمدات بھی متاثر ہوئیں، جس سے توانائی کے دیگر شعبوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں ایک سیکیورٹی اہلکار جاں بحق جبکہ سات شہری زخمی ہوئے، جو اس صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ حملے جاری رہے تو عالمی تیل کی سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی منڈی میں توانائی کا بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سعودی عرب جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک کی پیداوار میں کمی عالمی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور معاشی عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔