اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرتے ہوئے
لبنان کو امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی معاہدے میں شامل کرنے کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اوٹاوا سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق کینیڈا اس معاملے پر دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ بھی رابطے میں ہے تاکہ ایک جامع معاہدہ ممکن بنایا جا سکے جو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کر سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں لبنان ایک اہم محاذ بن چکا ہے جہاں ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں کا آغاز ہوا۔ اگرچہ امریکا اور اسرائیل لبنان کو جنگ بندی معاہدے کا حصہ بنانے سے گریزاں ہیں، تاہم پاکستان کا مؤقف ہے کہ لبنان کو اس عمل میں شامل کرنا ضروری ہے تاکہ دیرپا امن ممکن ہو سکے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق اس تمام صورتحال میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار کلیدی حیثیت اختیار کر گیا ہے، اور یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ وہ اسرائیل پر کس حد تک دباؤ ڈال سکتے ہیں تاکہ لبنان میں جاری فوجی کارروائیاں روکی جا سکیں۔ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ جب تک لبنان پر حملے بند نہیں کیے جاتے، وہ کسی مکمل جنگ بندی معاہدے کو تسلیم نہیں کرے گا۔
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ جنگ بندی کو مؤثر بنانے کے لیے لبنان کی شمولیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے حزب اللہ کو قابو میں لانے کی ضرورت پر زور دیا، تاہم اسرائیل کے خلاف کسی ممکنہ پابندی کا ذکر نہیں کیا۔ اس مؤقف کی حمایت ایمانوئل میکرون اور انتھونی البانیز نے بھی کی ہے، جنہوں نے لبنان کو سفارتی عمل میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب زمینی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ لبنانی حکام کے مطابق حالیہ حملوں میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی کے پیش نظر جنوبی لبنان میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے گا۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ تنازع جاری رہا تو لبنان میں شدید عدم استحکام اور حتیٰ کہ خانہ جنگی جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں، جو پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہوں گے۔