اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے خیر سگالی کے جذبے کے ساتھ آیا ہے، تاہم امریکا پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
اسلام آباد میں جاری اہم سفارتی سرگرمیوں کے دوران اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران خطے میں امن اور استحکام چاہتا ہے اور اسی نیت کے تحت مذاکرات میں شریک ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ہمیشہ سنجیدہ اور بامقصد بات چیت کو ترجیح دی ہے، لیکن ماضی کے تجربات کی بنیاد پر امریکا پر اندھا اعتماد ممکن نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران مذاکرات کو مثبت انداز میں آگے بڑھانا چاہتا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین دیانت داری اور عملی اقدامات کا مظاہرہ کریں۔ ان کے مطابق اگر امریکا واقعی امن کا خواہاں ہے تو اسے اپنے وعدوں پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ ماضی میں ہونے والے معاہدوں کی خلاف ورزیوں نے اعتماد کو نقصان پہنچایا، اس لیے اب ایران محتاط حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے قابلِ عمل ضمانتیں ناگزیر ہوں گی۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ مؤقف مذاکرات کے ماحول پر اثرانداز ہو سکتا ہے، تاہم یہ حقیقت بھی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کا جاری رہنا ناگزیر ہے۔واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان یہ اہم مذاکرات اسلام آباد میں جاری ہیں، جن پر نہ صرف خطے بلکہ عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔