اردوورلڈکینیڈا(ویب تیوز)انسانی تاریخ کے ایک اہم سنگ میل میں، امریکی خلائی ادارے NASA کے آرٹیمس دوم مشن کے خلا نورد چاند کے تاریخی سفر کے بعد بحفاظت زمین پر واپس آ گئے۔ جمعہ کے روز ان کا خلائی کیپسول بحرالکاہل میں کامیابی کے ساتھ اترا، جس کے ساتھ نصف صدی بعد چاند کے گرد انسانی پرواز کا باب مکمل ہوا۔
اس مشن میں شامل چار خلا نورد — Reid Wiseman، Victor Glover، Christina Koch اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والے Jeremy Hansen — نے تاریخی کارنامہ انجام دیا۔ ان کا خلائی جہاز “اورین” زمین کے ماحول میں داخل ہوتے وقت آواز کی رفتار سے تینتیس گنا زیادہ رفتار سے سفر کر رہا تھا، جو کہ ماضی کے اپالو مشنز کے بعد ایک غیر معمولی لمحہ تھا۔
واپسی کے دوران خلائی جہاز شدید حرارت اور پلازما کے حصار میں آ گیا، جس کے باعث چند منٹ کے لیے زمینی کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ یہ مرحلہ انتہائی نازک سمجھا جاتا ہے کیونکہ جہاز کی حرارتی حفاظتی ڈھال کو ہزاروں ڈگری درجہ حرارت برداشت کرنا ہوتا ہے۔ خوش قسمتی سے تمام نظام درست کام کرتے رہے اور کیپسول محفوظ انداز میں سمندر میں اترا۔
یہ مشن نہ صرف تکنیکی کامیابی تھا بلکہ سائنسی اور بصری لحاظ سے بھی غیر معمولی رہا۔ خلا نوردوں نے چاند کے اُس حصے کی تصاویر حاصل کیں جو انسانوں نے پہلے کبھی براہ راست نہیں دیکھا تھا، جبکہ مکمل سورج گرہن کا نظارہ بھی کیا۔ یہ مناظر سائنسی دنیا اور عوام دونوں کے لیے حیرت انگیز ثابت ہوئے۔
آرٹیمس دوم مشن نے انسانی سفر کی نئی حد قائم کرتے ہوئے زمین سے تقریباً چار لاکھ چھ ہزار کلومیٹر دوری تک پہنچنے کا ریکارڈ بھی قائم کیا، جو کہ Apollo 13 کے سابقہ ریکارڈ سے زیادہ ہے۔
یہ مشن مستقبل کے بڑے منصوبوں کی بنیاد بھی ہے۔ آرٹیمس پروگرام کے تحت اگلے مراحل میں چاند کے گرد مزید پیچیدہ مشنز اور بالآخر چاند کی سطح پر دوبارہ انسانوں کی لینڈنگ شامل ہے، جس کا ہدف دو ہزار اٹھائیس کے آس پاس مقرر کیا گیا ہے۔
اگرچہ مشن کے دوران کچھ تکنیکی مسائل بھی پیش آئے، جیسے پانی کے نظام اور دیگر آلات میں معمولی خرابیاں، تاہم خلا نوردوں نے انہیں برداشت کرتے ہوئے اپنے مشن کو کامیابی سے مکمل کیا۔
یہ تاریخی سفر نہ صرف سائنسی ترقی کی علامت ہے بلکہ انسانیت کو ایک بار پھر کائنات کی وسعتوں کو دریافت کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ خلا نوردوں نے اپنے پیغام میں زمین کو ایک خوبصورت اور نایاب تحفہ قرار دیتے ہوئے انسانوں پر زور دیا کہ وہ اس کی قدر کریں اور اس کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔