اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کا بہت احترام کرتے ہیں اور پاکستان کی قیادت، بشمول فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم، کو نہایت قابلِ احترام اور باصلاحیت سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان نے خطے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور کئی مواقع پر امن کے لیے کوششیں کی ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے مختلف تنازعات کو ختم کرانے میں کردار ادا کیا، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بھی شامل تھی۔ ان کے مطابق یہ صورتحال انتہائی خطرناک مرحلے تک پہنچ چکی تھی اور اس دوران شدید نقصان کا خدشہ موجود تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے مطابق اس دوران بڑی تعداد میں فوجی طیارے تباہ ہوئے اور حالات انتہائی کشیدہ تھے، تاہم بات چیت کے ذریعے صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی۔
امریکی صدر نے ایران کے حوالے سے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ کشیدگی جلد ختم ہو سکتی ہے اگر فریقین مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ ان کے مطابق ایران کو براہ راست رابطہ کرنا چاہیے اور معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے اندر مختلف سوچ رکھنے والے گروہ موجود ہیں، جن میں کچھ اعتدال پسند ہیں جبکہ کچھ سخت مؤقف رکھتے ہیں۔
انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ افزودہ مواد کا معاملہ مذاکرات کا حصہ ہو سکتا ہے اور اس پر پیش رفت کی امید کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح انہوں نے چین کے بارے میں کہا کہ بعض معاملات میں مزید تعاون کی ضرورت ہے تاکہ عالمی مسائل کو بہتر طریقے سے حل کیا جا سکے۔
نیٹو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ بعض مواقع پر اس اتحاد کا کردار مختلف رہا ہے اور بعض حالات میں متوقع تعاون حاصل نہیں ہوا۔
ایک اور گفتگو میں انہوں نے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک تقریب کے دوران پیش آنے والے حملے کے ملزم کے بارے میں ابتدائی معلومات کے مطابق اس کے خیالات انتہاپسندانہ تھے اور وہ شدید نفرت انگیز رویہ رکھتا تھا۔ ان کے مطابق اس واقعے کو فوری طور پر قابو کر لیا گیا اور سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کی۔
مجموعی طور پر امریکی صدر کے ان بیانات میں خطے کی سیاست، عالمی تعلقات اور سیکیورٹی معاملات پر مختلف آرا سامنے آئیں، جنہیں عالمی سطح پر اہم سفارتی گفتگو کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔