اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو کسی بھی قسم کی اجازت یا مالی ادائیگی سے مشروط کرنا قابلِ قبول نہیں۔ ان کے مطابق عالمی تجارت کے اس اہم راستے کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ایک نشریاتی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن حد تک دباؤ برقرار رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مذاکرات جاری ہیں، مگر ایران کے اندر موجود سخت گیر عناصر کسی بھی پیش رفت میں رکاوٹ بن سکتے ہیں، جبکہ کچھ حلقے ایسے بھی ہیں جو معیشت کی بہتری کے خواہاں ہیں۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی حالیہ تجاویز کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا، تاہم وہ ان پر مکمل اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر اس بات پر ناخوش ہیں کہ ایرانی تجاویز میں جوہری معاملہ مرکزی حیثیت نہیں رکھتا، اسی لیے مزید مشاورت جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا تک اپنی تجاویز پہنچائی ہیں، جن میں پہلے عارضی جنگ بندی اور پھر مستقل امن کی ضمانت شامل ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اگر پابندیاں ختم کی جائیں اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں دور ہوں تو وہ جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اسے پُرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا حق تسلیم کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران جوہری ہتھیار بنانے کی خواہش ترک نہیں کرتا تو مذاکرات بے سود ہوں گے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ ایران چاہے تو براہِ راست رابطہ کر سکتا ہے۔
نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق پس پردہ سفارتی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں اور مرحلہ وار پیش رفت کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور ایران کا جوہری پروگرام عالمی سیاست اور معیشت دونوں کے لیے انتہائی حساس معاملات بن چکے ہیں، جن کا حل نہ نکلنے کی صورت میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔