اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا میں پیٹرول کے ذخائر میں کمی اور عالمی سطح پر خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث عوام کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ عالمی توانائی منڈی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہے۔
عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت تین ہفتوں کی بلند ترین سطح عبور کرتے ہوئے 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجوہات میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی میں تاخیر شامل ہیں، جو تیل کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم سمندری راستہ ہے۔دوسری جانب امریکی خام تیل (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) کی قیمت بھی بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی رسد دباؤ کا شکار ہے۔
ماہرین کے مطابق سرمایہ کار اب سیاسی بیانات کے بجائے عملی صورتحال پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں، خاص طور پر اس بات پر کہ سمندری راستوں کے ذریعے تیل کی ترسیل کس حد تک متاثر ہو رہی ہے۔
ادھر امریکا میں پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ امریکی آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق پیٹرول کی اوسط قیمت 6 سینٹ اضافے کے بعد 4.18 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جو اگست 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ ایک سے دو ہفتوں میں قیمت 4.30 ڈالر فی گیلن تک جا سکتی ہے۔رپورٹس کے مطابق امریکا میں پیٹرول کے ذخائر بھی کم ہو رہے ہیں، جو معمول کے 250 ملین بیرل سے کم ہو کر 230 ملین بیرل سے نیچے آ چکے ہیں۔
اس کے علاوہ امریکا مشرق وسطیٰ میں سپلائی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ریکارڈ مقدار میں تیل اور صاف شدہ مصنوعات برآمد کر رہا ہے، جس سے اندرون ملک قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔خاص طور پر ریاست کیلیفورنیا میں پیٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 6 ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکی ہے، جو عوام کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ بنتی جا رہی ہے۔ادھر عالمی حصص بازار بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں۔ امریکا میں بڑے حصص اشاریوں میں کمی دیکھی گئی، جبکہ یورپ میں معمولی بہتری اور ایشیا کی بیشتر منڈیاں منفی رجحان کے ساتھ بند ہوئیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم نہ ہوئی اور تیل کی رسد میں بہتری نہ آئی تو توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔