اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا میں رواں سال کی مردم شماری کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جس کے تحت ملک میں رہائش پذیر تمام افراد کی گنتی کی جا رہی ہے۔ ادارۂ شماریات کینیڈا کے مطابق معلومات جمع کرنے کا عمل 4 مئی سے شروع ہو چکا ہے اور بیشتر گھروں کو مردم شماری کے فارم موصول بھی ہو گئے ہیں۔
تقریباً پچھتر فیصد گھروں کو مختصر فارم بھیجا گیا ہے، جس میں بنیادی آبادیاتی معلومات طلب کی جاتی ہیں، جبکہ تقریباً پچیس فیصد گھروں کو تفصیلی فارم فراہم کیا گیا ہے، جس میں سماجی، معاشی اور رہائشی معلومات بھی شامل ہوتی ہیں۔
یہ فارم گھر مالکان اور کرایہ دار دونوں کو سولہ ہندسوں پر مشتمل محفوظ رسائی کوڈ کے ساتھ ارسال کیے جاتے ہیں، جسے ادارۂ شماریات کی ویب سائٹ پر درج کر کے سروے تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق کرایہ کے مکان میں رہنے والے افراد کو اپنی علیحدہ مردم شماری مکمل کرنا ضروری ہے، البتہ اگر کوئی کرایہ دار مکان مالک کے ساتھ ایک ہی رہائش میں مقیم ہو تو وہ ایک ہی فارم میں شامل ہوگا۔
اگر کسی عمارت میں ایک سے زیادہ رہائشی یونٹ موجود ہوں، جیسے تہہ خانے، پہلی منزل اور دوسری منزل پر الگ الگ اپارٹمنٹس، تو ہر یونٹ کو اپنی علیحدہ مردم شماری مکمل کرنا ہوگی۔ اگر پوری عمارت کے لیے صرف ایک فارم موصول ہوا ہو تو رہائشی ادارۂ شماریات کی ویب سائٹ پر جا کر نیا محفوظ رسائی کوڈ حاصل کر سکتے ہیں اور اپنی یونٹ نمبر کے ساتھ الگ فارم جمع کرا سکتے ہیں۔
صرف ایک کمرہ کرائے پر لینے والے افراد کو اسی گھر یا اپارٹمنٹ کے دیگر رہائشیوں کے ساتھ ایک ہی فارم میں شامل کیا جائے گا۔
ادارۂ شماریات نے واضح کیا ہے کہ کرایہ داروں پر لازم نہیں کہ وہ اپنا مردم شماری کوڈ مکان مالک کے ساتھ شیئر کریں۔ مردم شماری کی تمام معلومات خفیہ رکھی جاتی ہیں اور یہ کسی بھی صورت مکان مالک، امیگریشن حکام یا ٹیکس اداروں کے ساتھ شیئر نہیں کی جاتیں۔
حکام نے یہ بھی یاد دلایا ہے کہ مردم شماری میں حصہ لینا قانونی طور پر لازمی ہے۔ فارم مکمل نہ کرنے یا جان بوجھ کر غلط معلومات فراہم کرنے والوں پر پانچ سو ڈالر تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔