اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے لیے عراق کے صحرائی علاقے میں ایک خفیہ فوجی اڈہ قائم کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ اڈہ اسرائیلی اسپیشل فورسز کی موجودگی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، جبکہ اسے اسرائیلی فضائیہ کے لیے ایک لاجسٹک مرکز کے طور پر بھی اہم حیثیت حاصل تھی۔ اس مقام پر سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بھی تعینات تھیں تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں اسرائیلی پائلٹس کو فوری مدد فراہم کی جا سکے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مارچ کے آغاز میں عراقی فوج اس مشتبہ اڈے کے قریب پہنچی تھی، تاہم اسرائیلی فورسز نے مبینہ طور پر فضائی کارروائی کرتے ہوئے عراقی اہلکاروں کو وہاں سے دور کر دیا تاکہ اس اڈے کا راز افشا نہ ہو سکے۔
اخبار کے مطابق یہ اڈہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور عملی تیاریوں کے لیے استعمال ہو رہا تھا، تاہم اس حوالے سے مکمل تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہو سکیں۔دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔