اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)سترہ برس قبل دبئی میں مقیم بھارتی نژاد خالد گلی والا تعلیم کے لیے کینیڈا کے شہر مونٹریال پہنچے جہاں انہوں نے میک گل جامعہ میں داخلہ لیا۔
اسی دوران مونٹریال کے لا فونتین پارک میں ان کی ملاقات فرانسیسی نژاد کیوبیکی خاتون فلورنس موراں لوراں سے ہوئی، جو بعد میں ان کی شریکِ حیات بن گئیں۔
آج یہ جوڑا اپنے تین بچوں کے ساتھ لونگوئیل میں خوشگوار زندگی گزار رہا ہے اور انہوں نے اپنی مشترکہ زندگی اور ثقافتی تجربات پر ایک کتاب بھی تحریر کی ہے۔
خالد گلی والا کا کہنا ہے کہ ان کی کتاب صرف تارکینِ وطن کی داستان نہیں بلکہ جدید کیوبیک کی شناخت اور وہاں کی معاشرتی حقیقت کو بیان کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب یہ سوال اٹھاتی ہے کہ آج کا کیوبیک دراصل کیسا دکھائی دیتا ہے اور وہاں کی ثقافت کس طرح مختلف رنگوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
فلورنس موراں لوراں نے کتاب کا ایک اقتباس پڑھتے ہوئے کہا کہ کیوبیک میں یکم جولائی صرف قومی دن نہیں بلکہ گھروں کی منتقلی کا دن بھی سمجھا جاتا ہے، جب ہزاروں لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں۔
خالد گلی والا نے بتایا کہ ان کی والدہ اور بہن ٹورنٹو میں رہتی ہیں، اس لیے انہیں شروع ہی سے کیوبیک کی ثقافت کے بارے میں جاننے کا تجسس تھا۔ ان کے مطابق بہت سے انگریزی بولنے والے کینیڈین بھی کیوبیک کی ثقافت کو الگ اور منفرد سمجھتے ہیں۔
فلورنس موراں لوراں کا کہنا تھا کہ مختلف ثقافتوں کو سمجھنے کے لیے سب سے اہم چیز تجسس اور کشادہ دلی ہے۔
خالد گلی والا نے مزید کہا کہ مونٹریال میں محدود حد تک انگریزی زبان مددگار ثابت ہوتی ہے، مگر فرانسیسی زبان سیکھنے کے بعد وہ نہ صرف کیوبیک کی وسیع تر ثقافت کو بہتر انداز میں سمجھ سکے بلکہ صحت، سرکاری اداروں اور روزمرہ معاملات میں بھی انہیں آسانی ہوئی۔ ان کے مطابق نئی زبان سیکھنے کے بعد ہی انہیں احساس ہوا کہ وہ اپنی اہلیہ کی ثقافت کے کئی پہلوؤں سے پہلے کتنے ناواقف تھے۔