اوٹاوا،مہنگائی میں بڑا اضافہ متوقع، عالمی توانائی بحران کے اثرات سامنے آنے کا خدشہ

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اپریل کے مہینے میں اوٹاوا میں سالانہ مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ متوقع ہے ۔

امکان ہے کہ یہ شرح تین فیصد سے بھی بڑھ جائے، جو دو ہزار تئیس کے بعد پہلی بار ہوگا۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر عالمی توانائی کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ اور تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے باعث سامنے آ رہا ہے۔

اعداد و شمار جاری کرنے والا ادارہ منگل کے روز اپریل کی نئی رپورٹ جاری کرے گا، جس میں صارف قیمتوں کے اشاریے کی تفصیلات شامل ہوں گی۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر تقریباً تین اعشاریہ ایک فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ مارچ میں یہ شرح دو اعشاریہ چار فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ پٹرول اور توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہے۔ اپریل میں پٹرول کی قیمتوں میں مزید آٹھ فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ اس سے پہلے مارچ میں بھی قیمتیں اکیس فیصد تک بڑھ چکی تھیں۔ اس مسلسل اضافے نے عام صارفین پر براہ راست اثر ڈالا ہے۔

رپورٹس کے مطابق عالمی توانائی منڈیوں میں اس وقت شدید دباؤ ہے کیونکہ ایران اور دیگر خطوں میں کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی نقل و حرکت میں رکاوٹ نے عالمی سپلائی کو محدود کر دیا ہے، جس سے قیمتیں مسلسل بلند سطح پر برقرار ہیں۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مہنگائی میں متوقع اضافہ صرف ایندھن تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات دیگر شعبوں تک بھی پھیل سکتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ اور زرعی پیداوار کے اخراجات بڑھنے سے خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ اندازوں کے مطابق خوراک کی مہنگائی میں رواں سال تقریباً صفر اعشاریہ چھ فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

کچھ معاشی ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایندھن پر عارضی ٹیکس میں نرمی کچھ ریلیف ضرور دے سکتی ہے، لیکن یہ اقدام عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں ہونے والے بڑے اضافے کو مکمل طور پر متوازن نہیں کر سکے گا۔

معاشی ماہرین اس بات پر بھی متفق ہیں کہ صورتحال میں غیر یقینی کیفیت برقرار ہے کیونکہ تیل کی عالمی قیمتوں کا انحصار جغرافیائی سیاسی حالات پر ہے۔ اگر کشیدگی طویل ہوئی تو آنے والے مہینوں میں مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ صورتحال بہتر ہونے کی صورت میں دباؤ کچھ کم ہو سکتا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں