جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کا پھیلاؤ،اموات میں اضافہ اور عالمی تشویش

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)افریقی ملک جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث اب تک کم از کم 118 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 390 سے زائد مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

صحت کے حکام کے مطابق ایبولا سے بچاؤ کے لیے فی الحال کوئی مؤثر اور منظور شدہ دوا یا ویکسین دستیاب نہیں، اسی لیے عوام کو سختی سے صحت عامہ کے حفاظتی اصولوں پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان احتیاطی تدابیر میں متاثرہ افراد کی تدفین کے دوران خصوصی حفاظتی اقدامات بھی شامل ہیں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

امریکی سینٹرز برائے امراض کنٹرول و روک تھام کے مطابق پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی ایبولا کے دو تصدیق شدہ کیسز اور ایک ہلاکت سامنے آئی ہے، جس سے خطے میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔

موجودہ وبا ایبولا وائرس کی ایک نایاب قسم “بنڈی بگیو” سے پھیل رہی ہے، جسے عالمی ادارہ صحت نے بین الاقوامی سطح پر صحت عامہ کے لیے ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ صورتحال خاص طور پر مشکل اس لیے ہے کیونکہ متاثرہ علاقے تنازعات سے بھی متاثر ہیں، جس سے امدادی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایک امریکی ڈاکٹر بھی متاثرہ افراد میں شامل ہیں جنہیں علاج کے لیے جرمنی منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اسی طرح کم از کم چھ امریکی شہری وائرس کے رابطے میں آئے ہیں، جبکہ امریکی ادارے ان کے محفوظ انخلا میں معاونت کر رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ نے جمہوریہ کانگو کے لیے اپنی سفری وارننگ کو سطح چار تک بڑھا دیا ہے، جو سب سے سخت انتباہ ہوتا ہے اور اس کا مطلب ہے کہ وہاں سفر سے مکمل گریز کیا جائے۔

عالمی ادارہ صحت نے اگرچہ اس صورتحال کو ہنگامی قرار دیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ وبا کووڈ جیسی عالمی وبا کے ابتدائی مرحلے میں ہے۔

ماہرین کے مطابق ایبولا وائرس عموماً جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، خاص طور پر پھل کھانے والی چمگادڑوں کے ذریعے۔ انسانوں میں یہ وائرس اس وقت پھیلتا ہے جب وہ متاثرہ جانوروں کے جسمانی حصوں کو سنبھالتے یا استعمال کرتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق اس کی علامات ظاہر ہونے میں دو سے اکیس دن لگ سکتے ہیں۔ ابتدا میں یہ بیماری فلو جیسی علامات جیسے بخار، سر درد اور شدید تھکن سے شروع ہوتی ہے، بعد ازاں مریض کو قے، اسہال اور جسمانی کمزوری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو سنگین صورت میں اعضا کی ناکامی اور بعض اوقات اندرونی یا بیرونی خون بہنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

یہ وائرس متاثرہ جسمانی رطوبتوں جیسے خون اور قے کے ذریعے ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہو سکتا ہے، اس لیے احتیاطی تدابیر کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں