البرٹا کی علیحدگی روکنے کیلئے “فاریور کینیڈین” مہم کا آغاز، سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)سرخ اور سفید لباس پہنے سینکڑوں افراد نے کینیڈین جھنڈے لہرا کر، گاڑیوں کے ہارنوں کے درمیان نعرے لگا کر اور قومی ترانہ گا کر صوبہ البرٹا کی ممکنہ علیحدگی کے خلاف ایک نئی مہم کا آغاز کیا۔

البرٹا کے سابق نائب پریمیئر تھامس لوکازک نے اعلان کیا کہ ان کی “فاریور کینیڈین” مہم کے تحت وہ اپنے “یونٹی بس” کے ذریعے اگلے چھ ماہ تک صوبے کے شمال سے جنوب تک سفر کریں گے تاکہ شہریوں کو اکتوبر میں ہونے والے ریفرنڈم میں کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حق میں ووٹ دینے پر آمادہ کیا جا سکے۔

ایڈمنٹن میں مہم کے دفتر کے باہر خطاب کرتے ہوئے لوکازک نے کہا کہ وہ شہر شہر اور کیمپ گراؤنڈ سے کیمپ گراؤنڈ جائیں گے تاکہ عوام کو اس ووٹ کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔ ان کے مطابق یہ صوبے کی تاریخ کا سب سے اہم ووٹ ہوگا اور کسی کو بھی ملک کو توڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے بتایا کہ مہم کے دوران گھر گھر رابطہ، کینیڈین جھنڈے والے بورڈز کی تنصیب اور عوام کو درست معلومات فراہم کی جائیں گی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ریفرنڈم میں حصہ لے سکیں۔

پولینڈ میں پیدا ہونے والے لوکازک نے کہا کہ کینیڈا ایک شاندار ملک ہے اور دنیا بھر میں پیدا ہونے والے لوگ خود کو کینیڈین سمجھتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ سب مل کر ملک کے اتحاد کیلئے جدوجہد کریں گے۔

البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ انیس اکتوبر کو ہونے والے ریفرنڈم میں شہریوں سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ کینیڈا میں رہنا چاہتے ہیں یا علیحدگی کیلئے ایک باضابطہ ریفرنڈم کے عمل کا آغاز چاہتے ہیں۔

اسمتھ کا کہنا ہے کہ عدالت نے حال ہی میں علیحدگی پسند درخواست کو مسترد کر دیا تھا کیونکہ حکومت نے مقامی اقوام سے مشاورت کا تقاضا پورا نہیں کیا، اسی وجہ سے براہ راست علیحدگی کا سوال بیلٹ پر شامل نہیں کیا جا سکا۔ حکومت نے اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

پریمیئر اسمتھ نے دعویٰ کیا کہ “فاریور کینیڈین” درخواست پر چار لاکھ سے زائد جبکہ “اسٹے فری البرٹا” درخواست پر تقریباً تین لاکھ دستخط اس بات کا ثبوت ہیں کہ بڑی تعداد میں شہری صوبے کے مستقبل پر ووٹنگ چاہتے ہیں۔

تاہم لوکازک نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی درخواست کا مقصد دراصل ریفرنڈم کو روکنا تھا کیونکہ بہت سے شہری ایسی ووٹنگ نہیں چاہتے۔ ان کے مطابق ریفرنڈم عوام پر مسلط کیا جا رہا ہے، لیکن اب جب حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے تو وہ بھرپور انداز میں حصہ لیں گے۔

تقریب میں وفاقی لبرل وزیر ایلینور اولژیوسکی بھی شریک ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مارک کارنی نے ملک کو متحد رکھنے کے وعدے پر انتخابی مہم چلائی تھی اور وہ اسی مقصد کیلئے کام جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی البرٹا اور کینیڈا کی شناخت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور کسی کو بھی عوام کو ان دونوں میں سے ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں