اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں جائیداد کے شعبے کیلئے اہم ریلیف اقدامات سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جن کے تحت خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز پر غور جاری ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق بجٹ میں ٹیکس فائلرز کیلئے جائیداد کی خرید و فروخت کے دوران عائد ٹرانزیکشن ٹیکس میں کمی کی جا سکتی ہے تاکہ اس شعبے میں سرگرمی کو فروغ دیا جا سکے اور جمود کو کم کیا جا سکے۔
وزارتِ خزانہ سے منسلک ذرائع کے مطابق جائیداد کی خریداری پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس، جو اس وقت ایک اعشاریہ پانچ فیصد تک ہے، اسے کم کر کے صفر اعشاریہ پچیس فیصد تک لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلی بالخصوص فائلرز کیلئے سہولت پیدا کر سکتی ہے۔
اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں بھی بڑی کمی کی تجویز سامنے آئی ہے۔ موجودہ شرح جو چار اعشاریہ پانچ فیصد تک بتائی جاتی ہے، اسے کم کر کے تقریباً ایک اعشاریہ پانچ فیصد تک لانے کی تجویز زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جائیداد کے شعبے میں مجوزہ ٹیکس تبدیلیوں سے متعلق بین الاقوامی مالیاتی ادارے کو بھی آگاہ کیا گیا ہے، تاکہ آئندہ بجٹ اقدامات کے حوالے سے ہم آہنگی برقرار رکھی جا سکے۔
تاہم حکام کے مطابق نان فائلرز کیلئے کسی قسم کی ریلیف تجویز نہیں کی گئی۔ ان کیلئے جائیداد کی خرید و فروخت پر موجود بھاری ٹیکس بوجھ بدستور برقرار رہنے کا امکان ہے، جو مجموعی طور پر تقریباً دس اعشاریہ پانچ فیصد کے قریب ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال جولائی سے مارچ کے دوران ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً انتیس فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم بھاری ٹیکسوں کے باعث جائیداد کی منتقلی اور لین دین کی رفتار میں کمی بھی دیکھی گئی ہے، جس کے اثرات مجموعی محصولات پر پڑے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مجوزہ کمیوں پر عمل کیا جاتا ہے تو اس سے جائیداد کے شعبے میں سرگرمی بڑھ سکتی ہے اور مارکیٹ میں اعتماد بحال ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔