اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کے بعد عالمی اور علاقائی معاشی حالات میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے، تاہم پاکستان کے بجٹ تخمینوں میں فوری طور پر کسی تبدیلی کا فیصلہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بتدریج بہتری کی طرف بڑھ رہی ہے اور حکومت آئندہ برسوں میں معاشی استحکام کے لیے مختلف اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں دوبارہ رسائی حاصل کرنے اور مزید عالمی بانڈز کے اجرا کا خواہاں ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران توانائی کے شعبے اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، جس کے باعث سپلائی چین متاثر ہوئی اور مہنگائی دوبارہ دو ہندسوں کی سطح پر پہنچ گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اثرات کے باوجود حکومت معاشی استحکام کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2027 کے لیے اقتصادی شرح نمو کا ہدف چار فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ مہنگائی کو 8.2 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اسی طرح دفاعی اخراجات میں 18 فیصد اضافہ کرتے ہوئے انہیں تقریباً تین ہزار ارب روپے تک لے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے تقاضوں کے مطابق زیادہ تر انحصار ٹیکس آمدن میں اضافے پر کر رہی ہے جبکہ قرضوں کے ڈھانچے میں بہتری کے لیے کمرشل فنانسنگ کی طرف بھی پیش رفت کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد قرضوں میں مجموعی اضافہ نہیں بلکہ قرض دہندگان کے پروفائل کو بہتر بنانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات کے 3.4 ارب ڈالر کے ڈپازٹس واپس کیے اور اس کے ساتھ اماراتی کمرشل بینکوں سے مالی معاونت بھی حاصل کی گئی ہے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت مستقبل میں مزید پانڈا بانڈز، یورو بانڈز اور امریکی ڈالر بانڈز جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تاہم ان کے حجم کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔ ان کے مطابق اگلے مالی سال میں تقریباً 2.82 ارب ڈالر کی کمرشل اور یورو بانڈ فنانسنگ کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کو ایک ارب ڈالر کے مساوی پانڈا بانڈز کے اجرا کی منظوری مل چکی ہے جبکہ ابتدائی 250 ملین ڈالر کے اجرا کو بین الاقوامی سطح پر بڑی حد تک ضمانت حاصل تھی۔
ڈیجیٹل معیشت سے متعلق گفتگو میں وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کرپٹو کرنسی، ٹوکنائزیشن اور ڈیجیٹل اثاثہ ایکسچینجز کو پہلے ریگولیٹ کرنے کے بعد ان پر ٹیکس عائد کرنے کا جائزہ لے گی تاکہ اس شعبے کو رسمی معیشت میں شامل کیا جا سکے۔